پی ٹی ایم کے لیڈر منظور پشتین پشاور میں گرفتار،14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے سابق وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں سرگرم پشتون تحفظ تحریک ( پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور انھیں ایک میجسٹریٹ کی عدالت کے حکم پر چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ پر پشاور کی سنٹرل جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

سوموار کو منظور پشتین کی گرفتاری پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن سے عمل میں آئی ہے۔اس کے بعد انھیں عدالتی کمپلیکس میں ایک میجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

عدالت اب منگل کو ان کے معاملے کی مزید سماعت کرے گی اور اس کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا انھیں راہداری ریمانڈ پر پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جاسکتا ہے جہاں ان کے خلاف ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی اے) درج کی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان کے سٹی پولیس اسٹیشن میں 18 جنوری کو ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعات 153 اے ، 120 بی ،124 اور123-اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔یہ دفعات بالترتیب دوسروں کو جرائم پر اکسانے ،مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مجرمانہ سازش ، بغاوت اور ملک کے قیام کی مذمت اور اس کی خودمختاری کے خاتمے کی سازش کے جرائم سے متعلق ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق منظور پشتین اور پی ٹی ایم کے دوسرے لیڈروں نے 18 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اجتماع میں شرکت کی تھی اور اس میں پشتین نے مبیّنہ طور پر یہ کہا تھا کہ 1973ء کا آئین بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔نیز انھوں نے ریاست کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے۔

پولیس نے پی ٹی ایم کے نو اور کارکنان کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے نام محمد سلام ، عبدالحمید ، ادریس ، بلال ،محب ، سجاد الحسن ، ایمل ، فاروق اور محمد سلمان بتائے گئے ہیں۔

پی ٹی ایم کے سینیر لیڈراور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پُرامن اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق مانگنے پر یہ ہماری سزا ہے۔منظور پشتین کی گرفتاری سے ہمارا عزم مزید پختہ ہوگا۔ ہم اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

انھوں نے پی ٹی ایم کے کارکنان اور حامیوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ’’ ہم مشاورت کے بعد ایک حکمت عملی وضع کریں گے۔ہم اپنے آئینی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ، حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) اور ایوان بالا پارلیمان کے بعض ارکان نے اپنے الگ الگ بیانات میں منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پی پی پی نے اپنے بیان میں حکومت اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے درمیان فوری مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے اورکہا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریوں سے سیاسی مسائل کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں