.

افغان سفیرکی بیٹی کےاغواہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا:وزیرداخلہ

افغانوں اور بھارتیوں نے پاکستان کا تشخص مجروح کرنے کے لیے واقعہ کے حقائق مسخ کرنےکی کوشش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیرداخلہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں متعیّن افغان سفیرکی بیٹی کے اغوا ہونے کا تحقیقات میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔انھوں نے نئی دہلی اور کابل پرالزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے پاکستان کا تشخص مجروح کرنے کے لیے’’اغوا‘‘کے اس مبیّنہ واقعہ کے حقائق مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

شیخ رشید احمد نے منگل کے روز راول پنڈی میں ایک نیوزکانفرنس میں اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ یہ اغوا کا کوئی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کے تشخص کو مجروح کرنے اورعدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے سلسلہ وار واقعات کا حصہ ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے گذشتہ جمعہ کےروزافغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو نامعلوم افراد نے اغوا کے بعد مبیّنہ طور پرتشدد کا نشانہ بنایا تھا۔افغان دوشیزہ کے بیان کے مطابق انھیں اسلام آباد کے مشہورکاروباری علاقے بلیوایریا میں واقع ایک بیکری سے گھرواپسی پراغوا کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ٹیکسی پرسوار ہوکرواپس گھر آرہی تھیں،اس دوران میں ٹیکسی کے ڈرائیور نے ایک اورشخص کو سوار کر لیا تھا۔اس نے سلسلہ علی خیل سے بدتمیزی کی تھی اورانھیں مارا پیٹا تھا۔پھر ٹیکسی ڈرائیور ایک سڑک کے کنارے انھیں بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔میڈیکل رپورٹ میں ان پر جسمانی تشدد کی تصدیق ہوئی تھی۔

مگرشیخ رشید احمد نے اس بیان کی تردید کی ہے اورکہا کہ ٹیکسی ڈرائیوروں نے سلسلہ علی خیل کے سفر کے دوران میں کسی اور شخص کو کار میں سوارنہیں کیا تھا۔انھوں نے تھاکہ ’’کوئی شخص کسی ٹیکسی میں نہیں بیٹھا تھا،ہماری تحقیقات کے مطابق یہ اغوا کا کوئی کیس نہیں ہے۔تاہم ہمارے افغان بھائی اور بھارتی واقعہ کے حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘

ان کاکہنا تھا کہ {{پاکستان اور چین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی بھی سازشیں کی جارہی ہیں اور امن وامان کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بعض بین الاقوامی طاقتیں پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتیں۔انھوں نے داسو میں بس دھماکے ایسی کارروائیوں کی سازش کی ہے۔‘‘

شیخ رشیداحمد نے کہا کہ ’’ان تمام واقعات کے وقت کو ملاحظہ کیجیے۔جوہر ٹاؤن لاہور میں ایف اے ٹی ایف (فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس)کے اجلاس سے صرف ایک روز قبل بم دھماکا کیا گیا،داسومیں واقعہ پاک چین راہداری (سی پیک)کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے چندے قبل پیش آیا اور افغان سفیرکی بیٹی کے مبیّنہ اغوا کا واقعہ افغان امن کانفرنس سے چند روز قبل رونما ہوا۔‘‘

وزیرداخلہ نے ان تمام واقعات کو پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے دنیا پر یہ تاثردینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلسلہ علی خیل کے دعوے اور واقعہ کی تحقیقات کے نتائج میں واضح فرق کے باوجود ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر)درج کر لی گئی ہے اور ان کے پاکستان سے واپس چلے جانے کے باوجود ریاست خود یہ مقدمہ لڑے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے باوجود ہم سلسلہ کے مؤقف کا احترام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ بہت جلد تحقیقات کا حصہ ہوں گی۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں 48 گھنٹے میں تحقیقات مکمل کر لی گئی تھیں اور چوتھے ٹیکسی ڈرائیورکا بھی سراغ لگالیا گیا ہے،ان میں کسی کا بھی ماضی میں کسی مجرمانہ سرگرمی ملوث ہونے کا ریکارڈ نہیں ملا ہے۔واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ اور فوٹیج دفترخارجہ اور وزیراعظم ہاؤس کو بھیج دی گئی ہے۔

افغانستان نے اس واقعہ کے ردعمل میں پاکستان سے اپنے سفیرنجیب اللہ علی خیل اور سینیر سفارت کاروں کو گذشتہ اتوار کوواپس بلا لیا تھا۔پاکستان نے افغان حکومت کے اس ’’بدقسمت‘‘فیصلے پرافسوس کا اظہار کیا تھا۔اس واقعہ کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سردمہری آئی ہے۔