.

کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے کے لیے بات چل رہی ہے: وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے افغانستان سے بات چیت چل رہی ہے، اگر پاکستانی طالبان ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کر دیں گے۔

ترک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گروپوں سے افغانستان میں بات چیت چل رہی ہے اور افغان طالبان ان مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز ہوگی یا نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کیوں کہ میں عسکری حل پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کا فوجی حل نہیں ہے۔ ٹی ٹی پی کے کچھ گروپس پاکستانی حکومت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت پاکستان ان کو غیر مسلح کرنے کے لیے ان سے بات چیت کر رہی ہے۔ پاکستانی طالبان اگر ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کردیں گے۔ ٹی ٹی پی کے جنگجو ہتھیار ڈال کر ملک میں عام شہری کی طرح رہ سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کو تحفظات

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔

سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی نیر حسین بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بیان انتہائی حساس بیان ہے جس پر وطن کی حفاظت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قائد بے نظیر بھٹو شہید کی وارث جماعت پیپلز پارٹی کو شدید تحفظات ہیں، ہزاروں سویلین فوجی شہدا کے وارثین دہشت گردوں کو نشان عبرت بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

نیر بخاری نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو معاف کرنے کا بیان شہداء کے ورثا کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، بم دھماکوں خود کش حملوں میں شہید سیکڑوں شہریوں اور سانحہ اے پی ایس کے معصوموں کی روحیں انصاف کی تلاش میں ہیں، وزیراعظم کا مذاکرات تسلیم کرنا افسوس ناک اور شرم ناک بھی ہے۔

نیر بخاری نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے متعلق پارلیمان کو بائی پاس کیا گیا، عوام کو بتایا جائے کہ افغانستان میں جاری مذاکرات کی کیا شرائط ہیں؟ قوم اور پیپلز پارٹی یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات سے متعلق پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کو بے خبر کیوں رکھا گیا؟ اس طرح کے اقدامات سے بین الاقوامی سطح تک ملک سے متعلق منفی تاثر جنم لے گا۔

اس ضمن میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر اتنا بڑا اقدام اٹھانے کی شدید مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم کا بیان انتہائی حساس اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، تحریک طالبان سے کس بنیاد اور کن شرائط پر مذاکرات کیے جا رہے ہیں؟ قبل ٹی ٹی پی سے مذاکرات قبل ملک کی پارلیمان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟

شازیہ مری نے مزید کہا کہ حکومت کو اس طرح ٹی ٹی پی سے خفیہ مذاکرات کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ ٹی ٹی پی کو معاف کرنے کا بیان اے پی ایس سمیت دیگر شہداء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے؟