خیبرپختونخوا:ضلع کرم میں سرحدپار سے دہشت گردوں کے حملے میں پانچ فوجی شہید
پاکستان اپنے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی شدیدمذمت کرتا ہے:آئی ایس پی آر
پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں سرحدپار سے دہشت گردوں کی فائرنگ سے پانچ فوجی جوان شہید ہوگئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقے سے دہشت گردوں نے کرم میں فوجیوں پر فائرنگ کی ہےاور پاکستانی فوجیوں نے اس کا مسکت جواب دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ’’ہمارے فوجیوں کی فائرنگ سے دہشت گردوں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ فوجی شہید ہو گئے ہیں۔ان کی شناخت 34 سالہ لانس نائیک عجب نور،22 سالہ سپاہی ضیاءاللہ خان، 23 سالہ سپاہی ناہیداقبال، 18 سالہ سپاہی سمیراللہ خان اور27 سالہ سپاہی ساجد علی کے نام سے ہوئی ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اورتوقع کرتا ہے کہ عبوری افغان حکومت مستقبل میں اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خلاف پاکستان کی سرحدوں کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور ہمارے بہادرنوجوانوں کی اس طرح کی قربانیوں سے ہمارے عزم کومزید تقویت ملتی ہے‘‘۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاک فوج کے جوانوں پرحملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ ہے۔
ٹانک میں دہشت گرد کی ہلاکت
دریں اثناء آئی ایس پی آر نے ایک اوراطلاع دی ہے کہ سکیورٹی فورسزنے خیبرپختونخوا کے شہرٹانک میں دیال روڈ کے قریب انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی ہے اور ایک خودکش بمبار کو ہلاک کر دیا ہے۔
سکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی ’’مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹوں‘‘ پرکی ہے۔ آئی ایس پی آرکا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور ان کے ساتھیوں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
پاک فوج کے میڈیا ونگ نے ہفتہ کے روز ایک اور بیان میں بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں واقع گاؤں سروکئی میں خفیہ معلومات کی بناپر کارروائی کی تھی اور ٹی ٹی پی کے ایک دہشت گرد کو گرفتارکرلیا تھی۔اس کی شناخت اللہ نور کے نام سے ہوئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ٹی ٹی پی کا دہشت گرد برقع پہن کرفرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔تاہم سکیورٹی فورسز نے اسے پکڑلیا ہے۔کارروائی کے دوران میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد، جدید دھماکا خیز آلات، مارٹر، دستی بم اور مواصلاتی سازو سامان کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد ہواہے۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں اس طرح کی ایک اور کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ایم 16 رائفلیں اورگولہ بارود برآمد کیا ہے۔پاک فوج نے بتایا کہ چارمشتبہ افراد کواسلحہ کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔وہ درہ آدم خیل تک اسلحہ اورگولہ بارود پہنچانے کا دھندا کررہے تھے۔