الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بدھ کے روز حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل واوڈا کو اپنی دُہری قومیت چھپانے پرقانون ساز کی حیثیت سے نااہل قراردے دیا ہے۔انھوں نے 2018ء کے عام انتخابات میں کراچی سےقومی اسمبلی کی نشست کا انتخاب لڑتے وقت اپنی دُہری شہریت چھپائی تھی۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں فیصل ووڈا کو وزیر اور پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے ملنے والی تنخواہ اور دیگر مراعات دو ماہ کے اندر واپس کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس نے گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں سینیٹ کی نشست پر فیصل واوڈا کی جیت کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنرکے اعلان کردہ مختصر حکم نامے کے مطابق 10 مارچ 2021ء کومنعقدہ سینیٹکے انتخابات میں واوڈا نے قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے جو ووٹ ڈالا تھا،وہ بھی ’ناجائز‘تھا۔
تحریری حکم نامے میں کمیشن نے کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی قومیت یا شہریت رکھنے والے شخص کو پاکستان کے شہری کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کا اہل ہونے کے لیے اپنی بیرونی قومیت ترک کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے متعلقہ ملک سے ڈیکلریشن فارم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
ای سی پی کے فیصلے کے مطابق اس کیس کے دوران میں مسٹر واوڈا نے یہ تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے 2018ء میں قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اپنی امریکی شہریت کوترک کرنے کے حوالے سے کسی قسم کا اعلان نہیں کیا تھا۔ای سی پی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی نامزدگی کے حصے کے طور پر جو اعلان پیش کیا، وہ ’’غلط‘‘ تھا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جواب دہندہ کی ایک اور دلیل کہ اسے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ برائے سمندر پار پاکستانیز (نکوپ) 29 مئی 2018 کو منسوخ کر دیا گیا تھا اورایک کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) جاری کیا گیا تھا جواس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ اپنی امریکی شہریت کھوچکا ہے۔مگرکمیشن نے کہا کہ ’’صرف نکوپ سے دستبرداری یا پاسپورٹ کی تنسیخ قانون کے مطابق قومیت کو ترک کرنے یا اس سے دستبردار ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔
ای سی پی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ فیصل واوڈا قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ’’آئین کے آرٹیکل 63(1)(سی) کے لحاظ سے اہل شخص نہیں تھے اور انھوں نے اس سلسلے میں ایک جھوٹا حلف نامہ اور اعلان پیش کیا تھا جو آئین کے آرٹیکل 62(1)(ایف) کے دائرے میں آتا ہے‘‘۔
آرٹیکل 62(1)(ف) جس میں رکن پارلیمنٹ کے ’’صادق اور امین‘‘ (ایماندار اور صادق) ہونے کی پیشگی شرط مقرر کی گئی ہے، وہی شق ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پاناما پیپرزکیس میں عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے 28 جولائی 2017 کو نااہل قراردیا تھا۔اسی طرح پی ٹی آئی کے رہ نما جہانگیرترین کو دفعہ 62 کی اسی شق کے تحت عدالتِ عظمیٰ کی ایک علاحدہ بنچ نے 15 دسمبر2017ء کو نااہل قرار دے دیا تھا۔
سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62(1)(ایف) کے تحت نااہلی انتخابات لڑنے پر تاحیات پابندی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔الیکشن کمیشن نے واوڈا کو قومی اسمبلی کی نشست پربراجمان ہونے، عوامی عہدے پر فائز ہونے کے دوران میں سرکاری خزانے سے حاصل کردہ یا وصول کردہ تمام مالی فوائد کو دو ماہ کے اندرواپس کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں قومی اسمبلی کے سیکرٹری کا اس ضمن میں تصدیقی خط پیش کریں جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ انھوں نے قومی خزانے میں رقوم جمع کرادی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق یہ ’’ریکارڈ کی بات" ہے کہ فیصل ووڈا نے2018ء میں اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ ایک جھوٹا حلف نامہ داخل کیا تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا انتخاب لڑا تھا اور وفاقی وزیر بن گئے تھے۔
کمیشن نے نوٹ کیا کہ واوڈا نے 3 مارچ 2021 کو قومی اسمبلی کی نشست سے استعفا دے دیا تھا۔اسی روز سینیٹ کے انتخابات ہو رہے تھے اور اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس پر بحث ہو رہی تھیجس سے ان کا طرز عمل مشکوک ہ جاتا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے سینیٹ کے انتخابات میں ایم این اے کے طور پراپنا ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی نشست سے استعفا دے دیا تھا اور پھرخود کو سینیٹ کی نشست کے لیے پیش کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو سینیٹر قرار دینے کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے اور غلط بیانی پر ان کی رکنیت ختم کی جارہی ہے۔ای سی پی نے گذشتہ سال 23 دسمبر کو واوڈا کی نااہلی کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ ای سی پی بنچ نے گذشتہ سماعت کے دوران میں واوڈا کو اپنے دفاع کرنے اورمؤقف کی وضاحت کرنے کا آخری موقع دیا تھا۔