پاکستان بھرمیں رات ساڑھےآٹھ بجے بازار،مارکیٹیں بند کرنےکی تجویز پراصولی اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی نوتشکیل شدہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے توانائی بچاؤکی کوشش مہم میں رات ساڑھے آٹھ بجے ملک بھر میں تمام مارکیٹیں اور بازار بند کرنے کی تجویز پراصولی اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔اس میں سندھ، پنجاب اوربلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی مگرصوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور چیف سیکرٹری شہزاد بنگش نے ان کی جگہ صوبے کی نمائندگی کی۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق چاروں صوبوں نے رات ساڑھے آٹھ بجے تک مارکیٹیں بند کرنے کی تجویز پراصولی طورپراتفاق کیا ہے۔ تاہم سندھ، بلوچستان اورپنجاب کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں میں تجارتی اداروں اور کاروباری برادریوں سے مشاورت کے لیے دو دن کی مہلت کی درخواست کی ہے۔

اجلاس میں وزرائے اعلیٰ سے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکاء کووفاقی کابینہ کے فیصلوں اور توانائی کے تحفظ کی تجاویز سے بھی آگاہ کیا گیا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور خان جھگڑا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ صوبے نے مارکیٹیں بند کرنے پراتفاق نہیں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ بات سامنے رکھی گئی تھی کہ صوبہ وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گا۔

’بجلی بچاؤ‘کے لیے اقدامات

دریں اثناء وزیربجلی خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت نے توانائی کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کا منصوبہ بنایا ہے۔ان میں ہفتے میں سرکاری اداروں میں ایک بجائے دوچھٹیاں اورگھر سے کام بھی شامل ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کے لیےعملی اقدامات کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ناکارہ اور مہنگے بجلی گھروں کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی کل پیداوار 22 ہزار 10 میگاواٹ جبکہ طلب 26 ہزار 227 میگاواٹ ہے۔7 جون کو یہ کمی 4 ہزار میگاواٹ سے زیادہ رہی ہے۔

وزیر نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ درآمدی ایندھن استعمال کرنے والے بجلی گھر اب قائم نہیں کیے جائیں گے۔شمسی توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ اس کی پیداوار10 ہزار میگاواٹ تک بڑھائی جا سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اورحکومت نے صنعتی شعبے میں زیرو لوڈ شیڈنگ پالیسی نافذ کی ہے۔

توانائی بحران

پاکستان کو اس وقت توانائی کی کمی کا سامنا ہے، ملک کے بعض حصوں میں گھنٹوں طویل لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ایک روز قبل وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ توانائی کے تحفظ کے منصوبے کی منظوری تک ورچوئل اجلاس منعقد کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ کابینہ نے سرکاری سطح پر اور دفاتر میں بجلی کی کھپت میں 10 فی صدکمی کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

پیر کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے منگل تک بجلی کی بندش کم ہو کر24 گھنٹے میں ساڑھے تین گھنٹے رہ جائے گی اور16 جون تک تین گھنٹے سے بھی کم کرنے کے لیے حکومت نے کچھ اضافی ایندھن کا انتظام کیا ہے۔

انھوں نے مزیدکہا کہ 30 جون تک اگلے مرحلے میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید کم کرکے ڈیڑھ گھنٹے سے بھی کم کردیا جائے گا اور حکومت اپنے انتظام کو اس طرح یقینی بنائے گی کہ لوگ بری طرح متاثر نہ ہوں۔

رواں ماہ کے اوائل میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے’’365 دن کی دھوپ‘‘ سے فائدہ اٹھانے اور صبح سے شام تک بازار کھولنے کی تجویز دی تھی اور کہا تھا کہ ’’دوپہر ایک بجے بازار کھولنے اور رات ایک بجے بند کرنے‘‘کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

ان کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا:’’ہماری مارکیٹیں دوپہر ایک بجے کھلتی ہیں اوررات ایک بجے بند ہو تی ہیں۔ یہ مشق دنیا میں کہیں نہیں ہوتی۔ خدا نے ہمارے ملک کو 365 دن کی دھوپ دی ہے اور پھر بھی ہم کاروبار کرنے کے لیے اندھیرے میں روشنیاں آن کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ اگر مارکیٹیں صحیح کاروباری اوقات طے کریں تو پھر کراچی کے سوا باقی ملک میں 3500 میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ اس لیے مشکل حالات سخت فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں