شوکت ترین سے متعلق صحافی شاہین صہبائی وغیرہ نے’بے سروپا خامہ فرسائی‘کی: آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کے روز امریکا میں مقیم سینیر صحافی شاہین شہبائی کے ان دعووں کو مسترد کردیاہے جن میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیرخزانہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹرشوکت ترین سے کہا گیا تھا کہ وہ وفاداری تبدیل کریں اورپی ٹی آئی کو خیرباد کَہ کرمرکز میں نئی حکومت کی حمایت کریں۔

خود شوکت ترین نے اس دعوے کی تردید کی ہے اورکہا ہے کہ انھیں ’’اسٹیبلشمنٹ میں سے کسی نے کبھی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو’’چھوڑنے‘‘ کے لیے نہیں کہا‘‘۔

انھوں نے ٹویٹر پرلکھا:’’میں واضح طور پر اس بات کی تردید کرتا ہوں جو شاہین صہبائی نے مجھ سے منسوب کی ہے۔مجھے اسٹیبلشمنٹ میں سے کسی نے کبھی نہیں کہا کہ میں عمران خان کو چھوڑ کرشہبازشریف حکومت میں شامل ہوجاؤں‘‘۔

شوکت ترین نے اس میں شاہین صہبائی کے بدھ کو علی الصباح کیے گئے ٹویٹ کی تردید ہے۔اس میں موخر الذکرنے کہا تھا:’’غیرجانبدار بے نقاب: میں جلد ہی اس بارے میں لکھنے جا رہاہوں کہ چیف نیوٹرل، جسے شوکت ترین نے غیرجانبدارقراردیا تھا،اس نے ترین سے کہا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ غداری کریں اور شہباز کی مدد کریں، اپنے باقی چار ماہ کے عہدے کے لیے اتنی حساسیت اورخوفزدگی ہے۔دلچسپ، تشویش ناک، غیر محب وطن‘‘۔

تاہم شاہین صہبائی نے اپنے ٹویٹ میں اس بات کا ذکرنہیں کیا کہ آیا ترین کو مستعفی ہونے کے لیے کس نے کہا تھا اور ملفوف الفاظ کا سہارا لیا ہے۔

انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے شاہین صہبائی کے بیان کو ’’بے بنیاد پروپیگنڈا‘‘ قراردیا ہے۔ترین کے ٹویٹ کے دو گھنٹے سے بھی کم عرصے کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’شاہین صہبائی اور کچھ دیگرافراد کی جانب سے سوشل میڈیا پرسابق وزیر خزانہ کے حوالے سے کی جانے والی خامہ فرسائی بے بنیاد پروپیگنڈا ہے‘‘۔خود شوکت ترین نے بھی اس کی باضابطہ تردید کی ہے۔

اس نے واضح کیا ہے کہ ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف بدخواہ الزامات اور صریح جھوٹ بولنا قابل مذمت ہے اورادارہ اس مہم میں ملوّث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اس کے جواب میں شاہین صہبائی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ترین نے خود یہ خبربریک کی ہے کہ انھیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاملہ کاری میں مخلوط حکومت کی مدد کرنے کے لیےکہا گیا ہے۔

مئی میں ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں مخلوط حکومت نے گرتی ہوئی معیشت کوسنبھالا دینے کے لیے ان کی مہارت طلب کی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے اس وقت تک ایسا کرنے سے انکار کر دیا جب تک نگران سیٹ اپ تشکیل نہیں دے دیا جاتا اور وزیر اعظم شہباز شریف نئے عام انتخابات کا اعلان نہیں کردیتے۔

ایک پریس کانفرنس میں جب ترین سے پوچھا گیا کہ کیا نئی مخلوط حکومت کے رہنماؤں کی جانب سے معیشت کو فروغ دینے میں مدد کے لیے کوئی درخواست کی گئی ہے تو انھوں نے اس کا ہاں میں جواب دیا اور کہا کہ (موجودہ حکومتی رہنماؤں نے) ایسا ہی کہا ہے۔

سابق وزیرخزانہ نے مزیدکہا تھا:’’لیکن میں نے یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔ہمیں یقین ہے کہ نئے انتخابات کا وقت آ گیا ہے اوراگر فوری طور پر انتخابات کا مطالبہ کیا جاتا ہےاورنگران سیٹ اپ قائم کیا جاتا ہے تو میں کسی بھی مدد کے لیےوہاں موجودرہوں گا‘‘۔

واضح رہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کی جانب سے نیوٹرل (غیرجانبدار)کا لفظ کثرت سے استعمال کیا جاتاہے۔اس سے ان کی مراد فوج اور اس کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ ہوتے ہیں۔فوج نے مسلسل یہ کہا ہے کہ وہ غیرسیاسی ہے اوراس کا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

تاہم عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں معزولی کے بعد سے فوجی قیادت پرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تنقید کی جارہی ہے اورپی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ہرخاص وعام دبے اور کھلے لفظوں میں پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف تنقید اورہتک آمیز مہم میں پیش پیش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں