ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ڈالر کے انٹربینک نرخ ایک روپے 50 پیسے اضافے کے بعد ایک بار پھر 208 روپے کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ گئے۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق جمعرات کو ایک بار پھر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، ڈالر کے انٹربینک نرخ ایک روپے 50 پیسے اضافے کے بعد 207.95 روپے کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ گئے۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/MtTEroZPTd pic.twitter.com/qxws6Ceeot
— SBP (@StateBank_Pak) June 16, 2022
اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی قیمت 209 روپے سے بھی زائد ہو گئی ہے تاہم شام کو مارکیٹ بند ہونے پر اس بات کا حتمی تعین ہو جائے گا کہ ڈالر کی اوپن کرنسی مارکیٹ اور انٹر بینک قیمت میں کتنا اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام میں شمولیت طول اختیار کرنے، جولائی تک تیل کی قیمتوں پر سبسڈیز ختم کرنے سے مہنگائی کی شدت میں مزید اضافے جیسے عوامل زر مبادلہ کی مارکیٹوں پر اثر انداز ہیں جبکہ یومیہ بنیادوں پر مالیاتی بحران بڑھنے سے پاکستانی روپیہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے جس سے انٹر بینک مارکیٹ بحرانی کیفیت سے دوچار ہو گئی ہے۔
دریں اثنا گذشتہ روز حکومت نے مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی کے پیش نظر ایندھن کی قیمتوں پر سبسڈی مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے قیمتوں میں 29 فیصد تک اضافہ کردیا تھا۔
قرض پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے پیش نظر اپنے مالیاتی خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔