اسلام آباد: چینی باشندہ پاکستانی ملازمہ سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار
ایف آئی آر میں لڑکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 7 ماہ اور 26 روز کی حاملہ ہے
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چینی باشندہ کو اپنی کمپنی میں کام کرنے والی پاکستانی دوشیزہ کو آٹھ ماہ تک مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
معاملہ سامنے آنے پر اسلام آباد کے علاقے کورال پولیس نے ملزم کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کی جانب سے تھانہ کورال میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ درج ایف آئی آر میں لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ مئی دو ہزار اکیس سے مذکورہ چینی کمپنی میں پارٹ ٹائم ملازمت کر رہی ہے اور 15روپے تنخواہ لے رہی تھی۔
درج ایف آئی آر میں لڑکی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے چینی مالک قیمنگ ذہینگ نے جنوری دو ہزار بائیس میں اس کا ریپ کیا اور نوکری سے نکالنے کی دھمکی دے کر کسی کو بتانے سے منع کیا تھا۔ لڑکی کے مطابق چینی باشندہ نے اسے آٹھ ماہ تک متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا۔
پولیس نے چینی باشندے کو گرفتار کر کے اس کا موبائل فون اور پاسپورٹ قبضے میں لے لیا ہے، جب کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل بھی کرا لیا گیا۔ لڑکی اور ملزم کے ڈی این اے کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
درج ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کی عمر 16 سال ہے، جب کہ وہ نویں جماعت کی اسٹوڈنٹ ہے۔ ایف آئی آر میں لڑکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 7 ماہ اور 26 روز کی حاملہ ہے۔
مقدمہ درج کروانے والی متاثرہ لڑکی کا تعلق ضلع لودھراں سے ہے تاہم وہ راولپنڈی میں رہائش پذیر ہے۔ چینی باشندے پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 599، 506 اور 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔