پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہبازشریف نے کینیا میں پولیس کی فائرنگ سے معروف پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
کینیا کی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کو اتوار کے روز نیروبی کے نواح میں اس وقت گولی مارکرقتل کردیا گیاتھاجب وہ ایک گاڑی پر سفرکررہے تھے۔ان کی گاڑی پولیس ناکے پر نہیں رکی توپولیس اہلکاروں نے فائرنگ کردی تھی۔اس واقعے میں ان کے اندوہ ناک قتل پر پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑگئی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کاعدالتی کمیشن تشکیل دیں گے اور اس کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج سے درخواست کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں گے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ بیرون ملک ہونے والی موت کو دیکھتے ہوئے کمیشن کی شرائط کار یا دائرہ اختیار کیا ہوگا۔
پاکستان میں صحافی ارشد شریف کے قتل پرسوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔وہ پرائم ٹائم ٹیلی ویژن نیوز شو کے میزبان تھے اورچند ماہ قبل اپنی زندگی کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک سے راہ فراراختیار کرگئے تھے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ کینیا کب پہنچے تھے اور وہ وہاں کس مقصد کے لیے گئے تھے۔
کینیا کی پولیس کے ایک نگران ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ کینیا کے صدر ولیم روٹو نے انھیں فون پراس واقعے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے منگل کے روز کہا کہ یہ واقعہ ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ تھا لیکن انھوں نے اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
کینیا یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے بھی پولیس کی جانب سے پیش آنے والے واقعات پرشکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔کے یو جے نے ایک بیان میں کہا:’’پولیس ریکارڈ سے ارشد شریف کی موت کے بارے میں بہت کچھ سامنے آنا باقی ہےاور ہم فائرنگ کے محرکات کو بے نقاب کرنے کے لیے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔