نادانستگی میں اٹھائے اقدام پر افسوس ہے: عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

توہین عدالت کیس میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جانتے بوجھتے حکم عدولی نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چیرمین پاکستان تحریک انصاف [پی ٹی آئی] اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنا جواب جمع کرواتے ہوئے اپنے اقدام پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کی احکامات کی دانستہ حکم عدولی نہیں کی گئی۔

عمران خان نے توہین عدالت کیس میں عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا کہ "یقین دہانی کرواتا ہوں کہ مجھے 25 مئی کی شام کو عدالتی حکم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ میں نے جانتے بوجھتے سپریم کورٹ کی حکم عدولی نہیں کی گئی۔"

عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں میرے وکیل بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کروانے کا بھی کہا۔ تاہم عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ نے بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات میں کوئی سہولت نہیں کی۔

عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کو 6:45پر کارکنان کو دیا گیا وڈیو پیغام سیاسی کارکنان کی معلومات پر جاری کیا۔ احتجاج کے دوران جیمرز کی وجہ سے فون کے ذریعے رابطہ ناممکن تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ نادانستہ طور پر اٹھائے گئے قدم پر افسوس ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں عمران خان کا مؤقف تھا کہ اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ اداروں کی رپورٹس عدالتی حکم عدولی ثابت کرتی ہیں۔ اداروں کی رپورٹس حقائق کے خلاف ہیں۔ ایجنسیوں کی رپورٹس یکطرفہ ہیں۔ عمران خان کے دستخط سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں