پی ٹی آئی رہنما سینٹر اعظم سواتی دو ماہ کے اندر دوسری مرتبہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان تحریک انصاف ’’پی ٹی آئی‘‘ کے رہنما سینیٹر اعظم خان سواتی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ’’ایف آئی اے‘‘ کے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد کی ٹیم نے انکے فارم ہاؤس پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔ اعظم سواتی کیخلاف متنازع ٹویٹ پر ایف آئی اے سائبر کرائم میں مقدمہ درج ہے۔

سینیٹر اعظم سواتی نے گرفتاری کے دوران ایف آئی اے ٹیم سے مکالمے میں کہا ’’کہ ایف آئی اے کے افسر ایاز میرے مجرم ہیں میں انھیں یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘ اعظم سواتی کا کہنا تھا ’’کہ مجسڑیٹ نے وارنٹ دیا میں تقریر ختم کی سیدھا گھر آیا ہوں بھاگنے والا نہیں، کے پی کے نہیں گیا، ظلم کے خلاف رول آف لاء کے حق میں نکلے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا ’’کہ رول آف لاء یہ ہے، یہ وارنٹ لیکر آئے میں خود تھانے جانے کے لیے تیار ہوں، لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں ہے اس کے بعد تشدد کریں بے لباس کریں۔‘‘

اعظم سواتی نے مزید کہا ’’کہ میں ملک بھر کی خواتین سے کہتا ہوں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں تاکہ پھر کسی سینیٹر کو 74 سالہ شہری کو اس طرح بے لباس نہ کیا جائے، اس طرح اس کی فیملی کو خوار نہ کیا جائے اس لیے یہ جنگ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا، اس کا طریقہ یہ مجھے گرفتار کر کے مجسڑیٹ کے سامنے پیش کریں اپنی تفتیش کریں ہر طرح سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کی حالیہ گرفتاری ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد میں درج نئے مقدمے کے اندراج کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ ایف آئی اے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی مدعیت میں پیکا ایکٹ کی سکیشن 20، سمیت اداروں کے خلاف اکسانے کی دفعات 500/505 131/501 پی پی سی وغیرہ کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ مقدمے میں اعانت جرم کی دفعہ 109 پی پی سی بھی شامل جبکہ مقدمے میں اعظم سواتی کے متازعہ ٹویٹس اور اعظم سواتی کے خلاف سابقہ ایف آئی آر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد نے متازعہ ٹویٹس پر مقدمہ باقائدہ انکوائری کے بعد 26 نومبر کو درج کیا۔ اسی طرح ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کو عدالت پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

عمران خان کی مذمت

چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ’’کہ ‏بنانا ریپبلک ہی نہیں جس تیزی سے ہم ایک فسطائی ریاست بن رہے ہیں اس پر مجھے نہایت حیرت وتکلیف ہے، کیسے کوئی اس کرب و آزار کے احساس سے عاری رہ سکتا ہےجس سے سینیٹر سواتی زیرِحراست تشدد سے گزرے۔‘‘

عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے ’’کہ ملک میں فسطائیت کا راج ہے، سینیٹر اعظم سواتی کو سماجی میڈیا پر محض ایک بیان کی پاداش میں ایف آئی اے نے دوبارہ گرفت میں لے لیا۔‘‘

عمران خان نے کہا ’’بلیک میلنگ کی غرض سے اپنے اہلِ خانہ کو بھجوائی جانے والی اپنی اور اپنی اہلیہ کی ویڈیوکے بعد وہ تکلیف سے گزرے، ‏ناانصافی پر انکے قابلِ جواز غصے اور مایوسی کو ہوا اس وقت ملی جب سینیٹرز کی جانب سے گذشتہ دو ہفتوں سے اپنی حمایت میں کی جانے والی استدعاؤں کے باوجود سپریم کورٹ کے دروازے ان پر بند رہے۔ چنانچہ انہوں نے ٹوئٹ کیا اور پھر سے دَھر لئے گئے، ریاست کی اس فسطائیت کیخلاف ہر فرد آواز بلند کرے۔‘‘

سواتی کی تقریر نشر کرنے پر پابندی

ادھر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ’’پیمرا‘‘ نےاعظم سواتی کی تقریر نشر یا تقریر کی ریکارڈنگ نشر مکرر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیمرا نوٹس کے مطابق ٹی وی چینلز نے بھی اعظم سواتی کی تقریر کو کسی ادارتی کنٹرول، ڈیلے نظام کے بغیر نشر کیا، ٹی وی چینلز نے عدالت عالیہ اور عظمی کے احکامات، پیمرا قوانین اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

اعظم سواتی
اعظم سواتی

پیمرا کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق اعظم سواتی کی پریس کانفرنس، میڈیا کوریج، بیان یا ٹکرز کے چلانے پر بھی پابندی ہو گی، ٹی وی چینلز پر سینیٹر اعظم خان سواتی کو ٹاک شو میں مدعو کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔ اگر کسی ٹی وی چینل نے احکامات کیخلاف ورزی کی تو بغیر شوکاز نوٹس، لائسنس معطل کر دیا جائے گا۔

پیمرا نے اعظم سواتی کی تقریر کو ریاستی اداروں کیخلاف بے بنیاد الزام تراشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز نے بھی اعظم سواتی کی تقریر کو کسی ادارتی کنٹرول، تاخیری نظام کے بغیر نشر کیا، ٹی وی چینلز نے عدالت عالیہ اور عظمی کے احکامات، پیمرا قوانین اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ نوٹس مفاد عامہ، امن و امان کی صورتحال، نفرت انگیز تقاریر روکنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں