پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چمن میں اتوار کے روز افغان سرحدی فورسزکی جانب سے شہری آبادی پربلااشتعال اوراندھادھندفائرنگ کے نتیجے میں چھے افراد جاں بحق اور17 زخمی ہوگئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان فورسز نے توپ خانے اور مارٹر گولوں سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
بیان میں کہاگیاہے کہ پاکستانی سرحدی دستوں نے اس اشتعال انگیز جارحیت کا مُنھ توڑجواب دیا ہے لیکن علاقے میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریزکیا ہے۔
بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے کابل میں اپنے ہم منصبوں سے صورت حال کی’سنگینی‘ کواجاگرکرنے کے لیے رابطہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعہ کی روک تھام کے لیے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
افغان فورسزکی فائرنگ سے زخمی ہونے والے تمام افراد کو ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال چمن منتقل کردیا گیا ہے۔ان کے علاوہ چار شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔
صوبہ کے سیکریٹری صحت صالح محمد ناصر کی ہدایت پرکوئٹہ کے سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اوریہ توقع ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت سفارتی سطح پر اس مسئلے کے فوری اورمؤثر حل کو یقینی بنائے گی۔انھوں نے چمن کی ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ افراد کو مکمل مددواعانت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ 13 نومبر کوچمن بارڈرکو فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد غیرمعیّنہ مدت کے لیے بند کردیا گیا تھا۔اس وقت افغانستان کی جانب سے ایک مسلح مشتبہ شخص نے دوستی دروازے پر پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک فوجی شہید اور دو زخمی ہوگئے تھے۔
افغان حملے کی مذمت
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے افغان فورسز کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اوراس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بلوچستان حکومت سے کہا ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور انھیں مدد مہیا کرے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک افغان چمن سرحد پر پیش آنے والے المناک واقعہ کی تفصیل اکٹھی کی جا رہی ہے۔پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی خبر انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی حملے کی شدید مذمت کی اورجاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہرے دکھ اورافسوس کا اظہارکیا ہے۔انھوں نےخبردار کیا کہ خطے میں پاک فوج کی پرامن پالیسی کوکمزوری نہ سمجھا جائے۔