پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے تاجکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تجارت بڑھانے پر زوردیا ہے۔
انھوں نے ان خیالات کا اظہار تاجک صدر امام علی رحمان کے ساتھ بدھ کو نیوزکانفرنس سے خطاب میں کیا ہے۔تاجک صدرپاکستان کے دوروزہ دورے پر ہیں۔ اس سے پہلے دونوں رہ نماؤں نے وزیراعظم ہاؤس میں ون آن ون ملاقات کی۔
President of Tajikistan H.E. Emomali Rahmon and Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif hold one-on-one meeting soon after the arrival of Tajik President at Prime Minister House ( 14 December, 2022) pic.twitter.com/k7MjCvkdXC
— Prime Minister's Office (@PakPMO) December 14, 2022
انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مفاہمت کی مختلف یادداشتوں (ایم او یوز) پردست خط کیے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا:’’ہمیں اپنے اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور صنعت، زراعت، مشترکہ منصوبوں اور توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ تاجکستان کا وسط ایشیا میں ایک بہت ہی ’’اہم مقام‘‘ہے اور یہ خطے کے لیے’’گیٹ وے‘‘ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ کاسا 1000 پاور پراجیکٹ کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ ریل، سڑک اور توانائی کے رابطے کے قیام کے لیے صدر امام علی رحمٰن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ تاجک صدر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان ’’تعاون اور ترقی کے ایک نئے دور‘‘کا آغاز ثابت ہوگا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ’’ان کے درمیان انتہائی نتیجہ خیزاورمفید' بات چیت ہوئی ہے۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تجارتی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے‘‘۔
قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر صدر رحمٰن کا وزیراعظم نے بہ نفس نفیس پُرتپاک استقبال کیا۔انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں معززمہمان نے وزیراعظم ہاؤس کے لان میں پودا بھی لگایا۔