وزیردفاع کے زیرقیادت پاکستانی وفدکی طالبان حکام سے سکیورٹی سے متعلق امورپربات چیت
پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف کے زیر قیادت اعلیٰ سطح کے وفد نے کابل میں سکیورٹی سے متعلق امور پرعبوری افغان حکومت کے حکام سے بات چیت کی ہے۔
دفترخارجہ نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا کہ وزیردفاع کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کاوفد آج کابل میں ہے۔وہ افغان عبوری حکومت کے عہدے داروں سے ملاقات کرے گا اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات سمیت سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرے گا۔
A high-ranking delegation led by the Minister for Defence is in Kabul today to meet with officials of the Afghan Interim Government to discuss security related matters including counter terrorism measures.
— Spokesperson 🇵🇰 MoFA (@ForeignOfficePk) February 22, 2023
افغان وزیراعظم کے دفترکی جانب سے جاری کردہ تصاویرمیں پاکستانی وفد میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹرجنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، سیکریٹری خارجہ اسد مجید خان،کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کے ناظم الامورعبید الرحمان نظامانی اور افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق کو قائم مقام افغان نائب وزیراعظم ملّاعبدالغنی برادرسے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
افغان وزراتی کونسل (وزیراعظم) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طرفین نے اقتصادی تعاون، علاقائی رابطے، تجارت اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ملّاعبدالغنی برادرنے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں اوران کے درمیان خوشگوارتعلقات ہونے چاہییں۔امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی اوراقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی اور سلامتی کے امور کودونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے اورانھیں سیاسی اور سکیورٹی مسائل سے الگ رکھاجانا چاہیے۔
بیان کے مطابق افغان نائب وزیراعظم نے پاکستانی وفد سے کہا کہ وہ پاکستان بھر کی جیلوں میں قید افغانوں کو رہا کرے۔انھوں نے پاکستان پرزوردیا کہ وہ طورخم اور چمن اسپن بولدک سرحدوں پر افغان مسافروں کے لیے سہولتوں کو یقینی بنائے اورہنگامی مریضوں کا خصوصی خیال رکھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امارتِ اسلامیہ افغانستان کومسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔وفد نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں اور کمیٹیوں سے کہاجائے گا کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے کوششیں تیزکریں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی اورسرحدی گذرگاہ طورخم منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی بند رہی تھی جبکہ سرحدی حکام کے درمیان مذاکرات شروع کرنے پر تعطل پیدا ہوگیا تھا۔
رواں ہفتے کے اوائل میں افغان طالبان نے پاکستان پر اپنے وعدوں سے انحراف کا الزام لگاتے ہوئے سرحدی گذرگاہ بند کردی تھی۔طورخم کے لیے افغان طالبان کے کمشنرنے کہا تھا کہ سرحد کوسفر اور ٹرانزٹ تجارت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مولوی محمد صدیق نے ٹویٹ کیا تھا کہ پاکستان نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی،اس لیے ہماری قیادت کی ہدایت پر گیٹ وے کو بند کردیا گیا ہے۔
غیر مصدقہ میڈیا اطلاعات کے مطابق عبوری افغان حکومت پاکستان میں زیرعلاج افغان مریضوں کے سفر پر غیرعلانیہ پابندی پر برہم ہے۔گذشتہ روز طورخم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا۔