کرکٹ کھیلناہے توسب کو میچ کی تاریخ،گراؤنڈاور طریق کارپراتفاق کرنا پڑے گا:سراج الحق

جماعت اسلامی کسی کی خواہش پرمذاکرات کرا رہی ہےاورنہ ہی ہمارا مقصد حلیف یا حریف تلاش کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے سیاسی جماعتوں کو قومی انتخابات پر مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم پراکٹھا کرنے کی اپنی کوششوں کے تناظر میں کہا ہے کہ کرکٹ کھیلناہے تو سب کو میچ کی تاریخ،گراؤنڈ اور طریق کار پرمتفق ہونا پڑے گا۔

مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے امیر جماعت نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اورپی ڈی ایم اپنے مؤقف میں لچک لائیں،ریڈ لائنز سے پیچھے ہٹیں، جماعت اسلامی نے ملک اور عوام کی خاطرسیاسی جماعتوں کو انتخابات کی ایک تاریخ پرمتفق کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا ہے کیوں کہ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ یہ جنگ مزید پھیلے اور عوام اسی طرح بے یارودمددگار رہیں، جماعت اسلامی کسی کی خواہش پرمذاکرات کرا رہی ہے اورنہ ہی ہمارا مقصد حلیف یا حریف تلاش کرنا ہے، سب کو حق ہے کہ اپنے نظریات اور منشور کے تحت عوام کے پاس جائیں اور یہی ایک راستہ ہے جو منزل کا تعیّن کر سکتا ہے، اس راستے کو اپنائے بغیر منزل ہی گم ہو جائے گی۔

انھوں نے کہاکہ وزیراعظم شہبازشریف اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ان سے ملاقات میں اعتراف کیاکہ حالات خراب ہیں۔حالات کو بہتر سمت لے کر جانا ہے تو واحد راستہ انتخابات ہیں۔انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے خود ہی بال اپنے کورٹ میں ڈال دی ہے، اگر وہ فل کورٹ بنا دیتے تو کوئی فیصلہ سے انحراف کی جرآت نہیں کر سکتا تھا۔اس وقت کی صورت حال جج بمقابلہ جج ہے۔

انھوں نے اعلیٰ عدلیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کرے اور سیاست دانوں کو مل بیٹھنے کا موقع دے، ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے بھی کہوں گا کہ وہ عوام سے کیا گیا غیرجانبداری کا وعدہ اس طرح پورا کرے کہ سب کو نظرآئے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی لڑائی خدانخواستہ کوئی بھارت،پاکستان کی جنگ نہیں، اگر نیلسن منڈیلا 30سال کی قید کے بعد اپنے مخالفین کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے اور طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پاکستان میں سیاسی جماعتیں آپس میں کیوں نہیں بیٹھ سکتیں؟

انھوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے، ہم عوام کو اس طرح بے یارودمددگار نہیں چھوڑ سکتے، یہ ملک صرف پی ٹی آئی یا پی ڈی ایم کا نہیں، ہم سب اس کے شہری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نے مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں،عید کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت اور مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملیں گے، سب کی بات سنیں گے اوراپنی سنائیں گے۔کوشش ہوگی کہ الیکشن کی تاریخ پراتفاق رائے پیدا کرلیا جائے۔

سراج الحق نے کہا کہ یہ طے ہے کہ اب ملک میں جاری لڑائیوں میں کوئی باہر سے مداخلت نہیں کرے گا، کوئی خلیجی ریاست ہماری مدد کو آئے گی نہ ہی کسی عالمی طاقت نے یہ لڑائی ختم کروانی ہے،سب اپنی ترجیحات میں مصروف ہیں، ہماری لڑائیاں جاری رہیں تو پوری دنیا تماشا دیکھے گی۔پہلے ہی عوام کا کچومر نکل گیا ہے،مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے ہر شخص کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہے، معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، سیاست دانوں کو باوقار راستہ اختیار کرنا پڑے گا، جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل عدالتوں یا اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ سیاست دانوں کے ذریعے ہی حل ہونے چاہییں۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ن)نے مذاکرات کے لیےان کےسامنے کوئی پیشگی شرائط نہیں رکھیں۔جہاں تک پی ٹی آئی کے خلاف کیسوں کا تعلق ہے تو واضح کردوں کہ کیسز توجماعت اسلامی کے لیڈروں کے خلاف بھی ہیں، مولانا ہدایت الرحمٰن جھوٹے مقدمات میں جیل میں ہیں، ہم ان کی رہائی کے لیے یکم مئی سے تحریک کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ میں بھی ان کی رہائی کی اپیل دائرکی ہے۔ماضی میں موجودہ حکومتی پارٹیوں کے لیڈروں کے خلاف بھی مقدمات درج ہوئے،بدقسمتی سے ان کیسوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ہم نے ہمیشہ اسی طرح کی سیاسی مقدمہ بازی کے خلاف آوازاٹھائی ہے، یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے، احتساب کا عمل ایسا ہو کہ سب کو نظرآئے اور کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

چودھری پرویزالٰہی کے بیان پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی مسلم لیگ (ن)کے ساتھ کسی صف بندی کے لیے نہیں گئی، ن لیگ اپنی سیاست کریں، ہم اپنی کر رہے ہیں، جماعت اسلامی عوام کا مقدمہ لڑ رہی ہے، ہمارے پیش نظر پاکستان کی ترجیحات ہیں۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کو انتخابات کی ایک تاریخ پر راضی کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک سینئر سیاست دان ہیں، انھوں نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے، ہم ان کے پاس بھی جائیں گے، عید کے بعد سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کے لیے کوششوں میں تیزی لائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں