آرمی تنصیبات پرحملہ کرنے والے 30 سے 40 دہشت گرد زمان پارک میں چھپے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پنجاب کے نگران وزیرِ اطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے 30 سے 40 دہشت گرد زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ خفیہ اداروں کی فراہم کی گئی معلومات انتہائی خطرناک ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عامر میر نے کہا کہ عمران خان کی رہائش گاہ میں ان لوگوں نے بھی پناہ لی ہوئی ہے جنہوں نے لاہور کے کور کمانڈرز کے گھر جناح ہاؤس میں آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی حکومت تحریکِ انصاف کی قیادت کو 24 گھنٹوں کا وقت دے رہی ہے کہ فوج کی تنصیبات پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو پنجاب کی پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔

بقول ان کے اداروں کے پاس اس کے شواہد موجود ہیںکہ جس وقت حملہ ہوا اور توڑ پھوڑ ہو رہی تھی تو حملہ آورا زمان پارک میں پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطے میں تھے۔ وہ ان افراد کو ہدایات جاری کر رہے تھے۔

پنجاب کے نگراں وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوگا جب کہ کیس انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا۔ جرم کی شدت کے مطابق کیس کا فیصلہ ہوگا۔ ان افراد کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔

عمران خان کے عدم گرفتاری حکم نامے میں توسیع

اسلام آباد ہائیww کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو مزید کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکنے کے احکامات میں 31 مئی تک توسیع کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بدھ کو عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی اور ان کی گرفتاری روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت میں عمران خان کی جانب سے بیرسٹر گوہر جب کہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور اسٹیٹ کونسل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

عمران خان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر انہیں سابق وزیرِ اعظم کے خلاف درج مقدمات کی مکمل تفصیل نہیں ملی تھی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے کچھ مہلت دی جائے۔

عدالت نے وفاق کے وکلا کی درخواست منظور کرتے ہوئے 31 مئی تک سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات میں بھی اگلی سماعت تک توسیع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت دو ہفتوں کے لیے منظور کی تھی جب کہ عدالت نے کسی بھی نئے مقدمے میں عمران خان کو 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

علی محمد خان، ملیکہ بخاری کی نظر بندی کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریکِ انصاف کے رہنما علی محمد خان اور ملیکہ بخاری کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

علی محمد خان اور ملیکہ بخاری کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت نے دونوں رہنماؤں کی تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کو کالعدم قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں