پاکستان کی ویڈیو گیم صنعت کیونکر بھاری زرِمبادلہ نہیں کما پارہی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کی ویڈیو گیم انڈسٹری نے ایوارڈ یافتہ مصنوعات تیار کرکے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے، اگرچہ حکومتی تعاون اور PayPal جیسے بین الاقوامی ادائی گیٹ وے کی عدم موجودگی میں نوجوان ڈویلپرز کے لیے زرمبادلہ لانا یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا آسان نہیں ہے۔

ملک میں گیمنگ اسٹوڈیوز نے گذشتہ سال قومی معیشت میں 17 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا حصہ ڈالا تھا۔ یہ رقم 300 ارب ڈالر سے زیادہ کی عالمی مارکیٹ میں اس کے معمولی حصے کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کی ویڈیوگیم انڈسٹری میں قریباً 8500 افراد کام کرتے ہیں جو مقامی کمپنیوں کو مختلف پلیٹ فارمز بشمول سیل فونز، ڈیسک ٹاپس، میک ڈیوائسز اور پلے اسٹیشن اور ایکس بکس جیسے کنسولز کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد زوہیب خان کہتے ہیں کہ ملک کو اس صنعت کی غیر ملکی ترسیلاتِ زر میں سال بہ سال 30 فی صد اضافے کے لیے سالانہ 3،000 مزید ڈویلپرز کو ملازمتیں دینے کی ضرورت ہے، بشرطیکہ حکومت انسانی وسائل اور ہنرمندی کی ترقی کے پروگراموں میں سرمایہ کاری کرے۔

انھوں نے کہا:’’ہمیں عالمی گیمنگ انڈسٹری میں منصفانہ حصہ حاصل کرنے کے لیے اپنے نوجوانوں کی گیم ڈیولپمنٹ اور اینی میشن کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ڈیزائنرز اور پیشہ ور افراد کو معیاری مصنوعات کی تیاری میں بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے تربیت دینا ہوگی‘‘۔

اسلام آباد میں قائم ایوارڈ یافتہ گیم ڈیولپمنٹ کمپنی وی آر پلے کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر فواد اصغر نے بھی ان کی بات سے اتفاق کیا۔انھوں نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں گیم ڈیولپمنٹ میں تربیت کے مواقع کی کمی اور اس صنعت کے لیے حکومتی تعاون کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’پاکستان کے پاس عالمی گیمنگ انڈسٹری کا ایک فی صد بھی حصہ نہیں ہے‘‘۔

فواد اصغر کی کمپنی نے 2010 میں کام شروع کیا تھا اور اس میں قریباً 250 افراد کام کرتے ہیں۔اس نے ان گذشتہ برسوں میں قریباً 40 گیمز بنائے ہیں۔ان میں "لاسٹ ٹوئنز 2" بھی شامل ہے جس نے آئی او ایس، اینڈرائیڈ، پی سی، میک اور نائنٹینڈو وغیرہ پر جاری اپنے ڈیمو کی بنیاد پر بین الاقوامی ایوارڈز جیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کمپنی اگلے چند ماہ میں ’’ لاسٹ ٹوئنز 2‘‘ کو تمام پلیٹ فارمز پر جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ہمیں امید ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک بڑی جیت ہوگی۔ان کی کمپنی میں ڈویلپرز نے اس گیم کو تیار کرنے میں قریباً چار سال لگائے ہیں۔

کمپنی کی آمدن اوراس کا ہدف صارفین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فواد اصغر نے بتایا کہ قریباً 90 فی صد آمدن ڈاؤن لوڈ اور اشتہارات کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ امریکا سے آتا ہے۔

کمپنی کی تیار کردہ ایک اور گیم 'رن شیدا رن' کو پاکستان میں 10 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہاں آمدن حاصل کرنا واقعی مشکل ہے۔

پاکستان میں ویڈیو گیمز کی کم آمدن کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لاہور میں ٹیک ہاؤس گیمز کے شریک بانی سانول نواز نے کہا کہ ملک میں ایک ہزارامپریشن کی اشتہاری قیمت صرف 30 سے 40 روپے (0.1 سے 0.13 ڈالر) ہے جبکہ امریکی اور یورپی مارکیٹوں میں یہ 15 سے 20 ڈالر ہے۔

انھوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’’ہماری معیشت اچھی نہیں ہے، لہٰذا جو لوگ پاکستان میں گیمز کھیلتے ہیں وہ ان ایپ کی خریداری نہیں کرتے ہیں جس سے ہماری آمدن نہ ہونے کے برابر رہتی ہے‘‘۔

سانول نواز نے نشان دہی کی کہ پاکستان میں ڈویلپرز کے پاس مارکیٹنگ اور تیارکردہ گیمز کی آن لائن تشہیر اور فروخت کے لیے سرمائے کی کمی ہے جس سے کہ وہ مغربی ممالک میں زیادہ سے زیادہ مارکیٹ حاصل کرسکیں کیونکہ گیم لانچ ہونے کے بعد انھیں اس مقصد کے لیے کم سے کم 300 ڈالر روزانہ ادا کرنا پڑتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ’’اگر آپ مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا تیارکردہ گیم آمدنی کے لحاظ سے اچھا نہیں رہے گا‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ صنعت کم سے کم سرمایہ رکھنے والوں کے لیے مشکل ہو رہی ہے کیونکہ گوگل نے حال ہی میں صرف ادا شدہ اشتہارات کو فروغ دینے کے لیے اپنا الگورتھم تبدیل کیا ہے۔

مزید برآں، سانول نواز نے نشان دہی کی کہ پاکستانی یونیورسٹیاں ترقی یافتہ دنیا کے برعکس اینی میشن اور گیمنگ کی ڈگریاں پیش نہیں کر رہی ہیں۔اس کی وجہ سے ڈویلپرز کے لیے گیم ڈیولپمنٹ میں صرف سرٹی فکیٹ کورسز کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ اس صنعت میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔آپ کی مصنوعات صرف اسی صورت میں فروخت ہوگی جب یہ بین الاقوامی معیار پر پورا اُتریں گی‘‘۔

صنعت کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وی آر پلے کے ڈائریکٹر کاروباری آپریشنز خضرجاوید نے کہا کہ دوسرے ممالک سے کمپنی کے لیے کام کرنے والے ملازمین کو ادائی کرنا آسان نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہمیں دوسرے چینلز کے ذریعے ملازمین کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کرنے سے پہلے اسے نکلوانے کی پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ عمل اتنا سستا اور سادہ نہیں ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ حکام کو’پے پال‘ اور ’اسٹریپ’ ایسے ادائی کے گیٹ وے پاکستان میں لانے چاہییں کیونکہ وہ رقم کی منتقلی کے لیے بہت آسان اور سستے ہیں۔تمام رکاوٹوں کے باوجود ،انھوں نے نوٹ کیا کہ وی آر پلے نے ایوارڈ یافتہ کھیل تیار کیے ہیں۔

کمپنی کے لیے 'لاسٹ ٹوئنز 2' اور 'ایکسپلوٹنز' کی تیاری میں کام کرنے والی ہدا محمود خان نے جاپانی اینی میٹر اور فلم ساز ہیاؤ میازاکی کو پنا ترغیب کنندہ اور محرک قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ اگر آپ انھیں دیکھیں تو ان کے پاس ایک بہت ہی شاندار لیکن قدرے غیر حقیقی دنیا ہے جسے ہم نے تخلیق کیا ہے۔

ہدا خان نے خاص طور پر "ایکسپلوٹنز" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے دنیا بھر سے ٹاپ 30 کھیلوں میں منتخب کیا گیا تھا اور بعد میں اس نے بہت اچھا مظاہرہ کیا۔انھوں نے بتایا کہ یہ ایک حرکی گیم ہے جو "بلیوں کے گرد گھومتی ہے۔ وہ طیاروں پر پرواز کر رہی ہیں اور ان کی اپنی دنیا ہے۔ہم نے اس دنیا اور پورے کھیل کواس تصورکے اردگرد تعمیر کیا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں