امریکی کمپنی نے اعلان کیا کہ مہم جو نمیرا سلیم جمعہ کو خلا میں سفر کرنے والی پہلی پاکستانی بن گئیں جو ورجن گیلیکٹک کی پانچ ماہ میں پانچویں کامیاب پرواز میں سوار تھیں۔
نمیرا جو پہلے قطبین کا سفر اور ایورسٹ کی چوٹی سے پیراشوٹ سے چھلانگ لگانے کا مظاہرہ بھی کر چکی ہیں، ارب پتی رچرڈ برانسن کی خلائی کمپنی کا ٹکٹ خریدنے والے اولین صارفین میں شامل تھیں جو تقریباً دو عشروں قبل قائم ہوئی۔
سلیم نے 2012 میں اے ایف پی کو بتایا "مجھے اپنا ٹائٹل 'اولین پاکستانی خلاباز' پسند ہے۔ یہ گویا ملک کی ایک بہت ہی خاص شہزادی ہونا ہے۔ شاید شہزادی ہونے سے زیادہ اچھا۔"
Spaceflight stats! Dive into the #Galactic04 breakdown:
— Virgin Galactic (@virgingalactic) October 6, 2023
⏰ Take-off Time
9:28 AM MDT
📍Altitude at Release
44,341 ft
🚀 Apogee
54.3 Miles
Top Speed
2.95 Mach
🌎 Landing Time
10:23 am MT
Details → https://t.co/BJ3NiP97UJ pic.twitter.com/60944DLZAc
ورجن گیلیکٹک نے بتایا کہ سلیم موناکو اور متحدہ عرب امارات کی بھی رہائشی ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ اس سے وہ خلاء میں سفر کرنے والی موناکو کی پہلی خاتون اور پہلی اماراتی خاتون بن گئی ہیں۔
امریکی رون روزانو اور برطانوی ٹریور بیٹی بھی جمعہ کے سفر میں مسافروں میں شامل تھے جسے "گیلیکٹک 04" کہا جاتا ہے۔
ورجن گیلیکٹک کی ایک ملازم بیتھ موسیز اور دو پائلٹ بھی جہاز میں سوار تھے۔
ورجن گیلیکٹ مسافر بردار جہاز کو آسمان کی بلندی پر لے جانے کے لیے خلا میں روایتی عمودی لانچ کے برعکس ایک خصوصی جڑواں جسم والے ہوائی جہاز کا استعمال کرتا ہے۔
اس کے بعد مدر شپ خلائی جہاز کو چھوڑتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے تھرسٹرز ماک-3 کی رفتار سے خلا میں جانے کے لیے مشغول ہو جاتے ہیں۔
مسافروں کو چند منٹوں کی بے وزنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں وہ قلابازی لگانے اور زمین کے خم پر کھڑکی سے باہر دیکھنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔
پھر جہاز واپس پلٹ کر نیو میکسیکو کے خلائی سٹیشن سے پرواز کے صرف ایک گھنٹہ بعد نیچے اتر آیا۔
ورجن گیلیکٹک 'سب اوربیٹل' خلائی سیاحت کے شعبے میں ارب پتی جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے جو پہلے ہی عمودی پرواز والے راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے 31 افراد کو خلا میں بھیج چکی ہے۔
لیکن ستمبر 2022 میں بغیر پائلٹ کی پرواز کے دوران ایک حادثے کے بعد سے بلیو اوریجن کا راکٹ زمین پر اتار لیا گیا ہے۔ حادثے کی تحقیقات کو ستمبر کے آخر میں امریکی ایوی ایشن ریگولیٹر نے بند کر دیا تھا جس نے کمپنی سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی پروازیں دوبارہ شروع ہونے سے پہلے تبدیلیاں کرے۔