پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے جنگی اخلاقیات پر دنیا کی طرف سے دہرے معیارات اور غزہ میں بچوں کے قتل غیر حقیقی جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی بربریت کی مثال قرون وسطیٰ کے دور میں بھی نہیں ملتی۔
وہ بدھ کو اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام سالانہ مارگلہ ڈائیلاگ سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع "ابھرتا ہوا عالمی ماحول : ہمارے مستقبل کیلئے سمت کا تعین" تھا۔
نگراں وزیراعظم نے کہاکہ اسرائیلی افواج ہسپتالوں میں مریضوں اور کمزوروں کو نشانہ بنا رہی ہیں، بچوں کا قتل کر رہی ہیں، اسرائیلی بچوں کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کا دفاع کرنے والےکچھ سفارتکاروں کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس دلیل پر اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی غصے کو ٹھنڈا کرنے اور اس سے نمٹنے کے لئے کتنے فلسطینی بچوں کو قتل کرنا پڑے گا؟
انہوں نے کہا کہ اب تک 4700 بچوں کو قتل کیا جا چکا ہے، وہ اپنی تسکین کیلئے مزید کتنے فلسطینی بچوں کو قتل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ کے پیروکار ہونے کے دعویداروں کی جانب سے فرعون کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معصوم بچوں کا قتل عام ناقابل قبول ہے۔
وزیر اعظم نے بھارت سمیت خطے کے ممالک کے ساتھ رابطوں کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا تاہم باہمی فوائد کیلئے ہونے والی تجارت بھیک نہیں ہونی چاہئے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کے روابط سے پہلے، تنازعہ کشمیر پر بات کرنا ضروری ہے کیونکہ اس مسئلے کو حل کئے بغیر موجودہ بھارتی حکومت کے ساتھ معمول کے تعلقات رکھنا ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل توجہ کا متقاضی ہے۔