اسفندیار ولی نے شوکت یوسفزئی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا
ایڈیشنل اینڈ سیشن جج پشاور اعجاز الرحمٰن قاضی، شوکت یوسفزئی کو 15 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی کے خلاف 15 کروڑ روپے ہرجانے کا کیس جیت لیا ہے۔
ایڈیشنل اینڈ سیشن جج پشاور اعجاز الرحمٰن قاضی نے پیر کے روز فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ شوکت یوسف زئی طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کی عدم پیشی پر یکطرفہ کارروائی کی گئی۔
شوکت یوسفزئی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ پر 25 ملین ڈالر میں پختونوں کا سودا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اسفندیار ولی نے 2019 میں شوکت یوسفزئی کے خلاف ہرجانہ کیس دائر کیا تھا، نوٹس میں مختلف اخبارات کی خبروں کا حوالہ دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 31 جولائی 2019 کو عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے اُس وقت کے خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی کو قانونی نوٹس بھجوایا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسفند یار ولی خان، عبدالولی خان کے صاحبزادے اور عبدالغفار خان (باچا خان) کے پوتے سابق پارلیمنٹرین ہیں۔ مذکورہ الفاظ سے اسفند یار ولی خان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
نوٹس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ نیوز کانفرنس کے دوران ’ہتک آمیز الزامات‘لگانے پر معافی مانگیں اگر وہ متعین وقت میں معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف 10 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔