ایبٹ آباد کے قدرتی حسن میں مذہبی اتحاد اور نوآبادیاتی ورثے کی داستان سناتا قدیم چرچ
ملکہ وکٹوریہ کی عطیہ کردہ زمین پر بنائے گئے چرچ کے بیرونی حصے میں بھی عبادت گذاروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے
پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے پہاڑی علاقے کے مقابل قدرتی حسن سے معمور شہر ایبٹ آباد واقع ہے جہاں کا 160 سال قدیم سینٹ لیوک چرچ مذہبی اتحاد اور خطے کی نوآبادیاتی تاریخ کی داستان بیان کرتا ہے۔
1864 میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران تعمیر کردہ اینگلیکن-پروٹسٹنٹ چرچ برِصغیر پاک و ہند میں خدمات انجام دینے والے برطانوی اہلکاروں کی خدمت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ سینٹ لیوک کی تعمیر 1854-55 میں شروع ہوئی جس کی ابتدا میں فنڈ جمع کرنے میں سستی اور پھر 1857 کی جنگِ آزادی کی وجہ سے مختصر سی تاخیر اور خلل پیدا ہوا۔ اسے 1864 میں کلکتہ کے بشپ نے مکمل کیا اور پھر تقدس بخشا۔
1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے دوران رکاوٹوں کے باوجود چرچ نے بڑے پیمانے پر عبادت گذاروں کی میزبانی جاری رکھی ہے اور اپنے بہت سے اصل تعمیراتی عناصر کو برقرار رکھا ہے۔
ڈائیوسیز آف پشاور کی طرف سے مقرر کردہ چرچ کے پادری رفیق جاوید نے اس ہفتے سینٹ لیوک چرچ کی تاریخ کی وضاحت کرتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا،
"اس کی تعمیر کے دوران چرچ کا بیرونی حصہ پتھروں سے بنایا گیا جنہیں ہاتھ سے کاٹا اور لگایا گیا تھا۔"
نیز انہوں نے کہا، "[چرچ کا] اندرونی حصہ مٹی، دال، پٹ سن، لکڑی کے برادے اور انڈوں کے پیسٹ سے بنایا گیا ہے۔ انڈے مقامی لوگوں نے فراہم کیے تھے۔"
سینٹ لیوک چرچ کے کئی عناصر اس کی تعمیر کے وقت سے برقرار ہیں مثلاً رنگین اور نقاشی والے شیشوں کی کھڑکیاں اور قدیمی تالے اور ان کی بہت بڑی وزنی چابیاں۔ ایک پائپ آرگن (آلۂ موسیقی) چرچ کے داخلی ہال میں رکھا ہے۔
جاوید نے کہا کہ 50 سال قبل پانی آنے سے آلۂ موسیقی خراب ہو کر ناقابلِ استعمال ہو گیا تھا لیکن اس کی آواز کسی زمانے میں ایبٹ آباد کی وادی میں مشہور تھی۔
چرچ کی دیواروں پر 1865 کی آرائشی تختیاں آویزاں ہیں جو جنگ میں کام آنے والے برطانوی فوجیوں کی یاد دلاتی ہیں۔ چرچ کے داخلی دروازے کی سیڑھیوں میں سے ایک پر مستقل طور پر ایک دھاتی ڈیوائس بھی نظر آتی ہے جسے برطانوی فوجی عبادت کے لیے مرکزی ہال میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتوں سے مٹی صاف کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
مقامی عیسائی برادری کہتی ہے کہ چرچ کی زمین ہندوستان کی ملکہ وکٹوریہ نے عطیہ کی تھی اور اس کا ایک دروازہ ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ چرچ کی زمین حلقے کے پادری کے گھر کے ساتھ ساتھ عمارت کے نگہبانوں کے لیے سٹاف کوارٹرز پر مشتمل ہے۔
چرچ میں 150 عبادت گذاروں تک کے بیٹھنے کی جگہ ہے جبکہ کرسمس اور ایسٹر جیسے خاص مواقع کے دوران بڑی تعداد کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے بیرونی حصہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں عیسائیت تیسرا بڑا مذہب ہے جس کی آبادی 1.27 فیصد ہے۔ اس کمیونٹی میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی تعداد تقریباً مساوی ہے جبکہ ایک چھوٹی سی تعداد مشرقی آرتھوڈوکس اور اورینٹل آرتھوڈوکس عیسائیوں کی بھی ہے۔ مقامی اندازوں کے مطابق ایبٹ آباد میں تقریباً 4,000 عیسائی آباد ہیں۔
جاوید پادری نے کہا کہ چرچ کی تعمیر کمیونٹی کی ایک کوشش تھی:
"اس وقت یہاں رہنے والوں میں ہندو اور ہمارے مسلم بھائی بھی شامل تھے اور انہوں نے بھی اس چرچ کی تعمیر میں مدد کی۔ [پیسٹ بنانے کے لیے] انڈے مقامی ہندو اور مسلم کمیونٹیز فراہم کرتی تھیں۔"