پاکستان کابعدازحج آپریشنزکااعلان،گرمی کے دوران ’مثالی‘ انتظامات پرسعودی حکام کی تعریف

دورانِ حج گرمی کم کرنے کے لیے آبی فواروں اور مشروبات کی تقسیم کا انتظام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے بدھ کو پاکستان میں بعد از حج آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا جبکہ اس موقع پر انہوں نے سعودی حکومت کی تعریف کی جس نے شدید گرمی میں بھی عازمین کے لیے "مثالی" انتظامات کیے۔

امسال دنیا بھر سے 15 لاکھ سے زائد افراد نے فریضۂ حج ادا کیا۔

حجاجِ کرام نے عرفات میں ایک دن گذارا جہاں انہوں نے خطبۂ حج بھی سماعت کیا۔ اس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھی تین دن تک عید الاضحیٰ منائی۔

سالک حسین نے مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن میں ایک مشاورتی اجلاس کے دوران کہا، "سخت گرمی کے باوجود سعودی حکومت کے حج انتظامات مثالی تھے۔" نیز انہوں نے کہا، "ہم بعد از حج آپریشن شروع کر رہے ہیں۔"

اجلاس میں اس سال حج کے دوران مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستانی وزیر نے نشاندہی کی کہ سعودی حکام نے آبی فواروں اور ٹھنڈے پانی اور مشروبات کی تقسیم کا نظام قائم کرکے گرمی کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حجاجِ کرام کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے تمام بڑے علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹ اور ڈسپنسریاں قائم کی گئی تھیں۔

حسین نے منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں پاکستانی حج معاونین کی غیر موجودگی کی اطلاعات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معاونین مخصوص چوراہوں پر موجود تھے لیکن علاقے میں زیادہ ہجوم کی وجہ سے انہیں منتقل ہونا پڑا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جیسے ہی رش معمول پر آیا، انہیں پاکستانی زائرین کی رہنمائی کے لیے دوبارہ بھیج دیا گیا۔

اجلاس میں مقدس مقامات پر گاڑیوں کے رش، راستہ بھول جانے کے امکانات اور موسم کی شدت سے نمٹنے کے لیے جامع تربیت کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں