پاکستان کی حکومت نے ایسی تمام کاروباری کمپنیوں اور اداروں کا پتہ چلانے کے لیے کمیٹی قائم کی ہے جو اسرائیل کو غزہ جنگ کے دوران مدد دے رہی ہیں۔ یہ کمیٹی ان کمپنیوں کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرے گی۔ اس امر کا اعلان وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ خان نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔
انہوں نے اس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ دھرنا ختم کرنے کے ایک معاہدے کی شرائط مانتے ہوئے کیا ہے۔
تحریک لبیک پاکستان نے غزہ جنگ کے دسویں مہینے کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹر چینج پر پچھلے کئی دنوں سے دھرنا دے رکھا تھا۔ تاکہ حکومت پاکستان کو اسرائیل اور اسرائیل کی مدد کرنے والی کمپنیوں کے خلاف واضح پالیسی اور اقدامات کرنے پر مجبور کر سکے۔
کئی روز جاری رہنے والے اس احتجاجی دھرنے کے بعد حکومت نے احتجاجی قیادت سے مذاکرات کیے اور غزہ جنگ کے تناظر میں مطالبات مانتے ہوئے کمیٹی قائم کر دی۔
دھرنا ختم کرانے کے لیے اس جماعت کے ساتھ وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کامیاب مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا۔
احتجاجی دھرنا دینے والوں کے مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ حکومت غزہ کے فلسطینیوں کے لیے خوراک اور طبی امداد کی صورت میں امدادی سامان میں اضافہ کرے۔ ایسی مصنوعات پر پابندی لگائے جو ان کمپنیوں اور ملکوں سے متعلق ہیں جو غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کو مدد دیتے ہیں۔
تحریک لبیک پاکستان نے ایک مطالبہ یہ بھی کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنہیں بین الاقوامی فوجداری جنگی جرائم میں ملوث قرار دیتی ہے انہیں پاکستان بھی دہشت گرد قرار دے۔ یہ مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد تحریک لبیک نے حکومتی مطالبے پر دھرنا ختم کر دیا۔
وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک کے طور پر سامنے آیا ہے اور نیتن یاہو نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران کہا گیا وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی کانفرنس کے دوران بھی اسرائیلی جنگ کی مذمت کی اور پاکستان ہر متعلقہ فورم پر فلسطینی کاز کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا ہم نے اتفاق کیا ہے کہ صرف اسرائیلی مصنوعات نہیں بلکہ ہر اس ملک کی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا جس کی افواج یا کمپنیاں اس ظلم میں اسرائیل کی ساتھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔جو ان چیزوں کی نشاندہی کر کے سفارشات دے گی۔
خیال رہے اب تک غزہ میں اسرائیلی فوج نے لگ بھگ 39000 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے ۔ ان میں زیادہ تر تعداد بجوں اور عورتوں کی ہے۔
اس تناظر پاکستان میں تحریک لبیک سمیت بہت سی جماعتیں اور عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے باعث متعلقہ ملکوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائے ہوئے ہے۔