جنوبی پاکستان میں ’زہریلا دودھ‘ پینے سے چار بچوں سمیت چھے ہلاک: پولیس
متوفی بچوں کی عمریں آٹھ سے 12 سال کے درمیان ہیں، دیگر چھے افراد ہسپتال میں زیرِ علاج
پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی پولیس نے پیر کے روز بتایا کہ ضلع خیرپور میں زہریلا دودھ پینے سے ہلاک شدہ ایک ہی خاندان کے چھے افراد میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
یہ واقعہ شہر پیر جو گوٹھ کے گاؤں ہیبت خان بروہی میں پیش آیا جو 18ویں صدی کے صوفی بزرگ سید محمد راشد شاہ روز دھانی کے مقبرے کے لیے مشہور ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا، "پیر جو گوٹھ میں زہریلا دودھ پینے سے چار بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چھے افراد ہلاک ہوگئے۔" پولیس نے مزید کہا کہ متوفی بچوں کی عمریں آٹھ سے 12 سال کے درمیان تھیں۔
دو بچے دودھ پیتے ہی فوت ہو گئے جبکہ باقی چار افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ دیگر چھے افراد بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
پولیس کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ زہریلا دودھ کہاں سے آیا لیکن کہا گیا ہے کہ "مکمل تحقیقات جاری ہیں۔"
2017 میں ایک واقعے نے قوم کو چونکا دیا جب ایک 21 سالہ پاکستانی خاتون جو خاندان کی پسند سے ہونے والی شادی سے ناخوش تھی، پر شوہر کے دودھ میں زہر ملا کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ بعد میں خاندان کے تقریباً دو درجن دیگر افراد نے وہ دودھ پی لیا جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہو گئے۔ خاتون کا شوہر بچ گیا۔