پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں 33 افراد ہلاک

’ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے متعدد واقعات میں اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں نے کئی حملے کرکے پولیس اہلکاروں، مقامی باشندوں اور مسافروں سمیت کم از کم 33 افراد کو ہلاک کر دیا۔ علیحدگی پسند کالعدم گروپ، بلوچ لبریشن آرمی نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ پیر کی علی الصبح مسل‍ح حملہ آوروں نے کم از کم تین علاقوں میں ریلوے لائنوں، گیس پائپ لائن اور پولیس اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ضلع موسیٰ خیل میں بسوں اور ٹرکوں کو روک کر مسافروں کو اتارا، ان کی شناخت چیک کی اور 23 لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ان میں بیشتر صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تھے۔

اس حملے میں کم از کم نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے اکیس گاڑیوں کو آگ بھی لگادی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان حملوں کا مؤثر جواب دیا، جس میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر موسیِ خیل نجیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے راڑہ ہاشم میں پیش آیا۔ موسیٰ خیل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سکیورٹی اہلکار ضلع موسیٰ خیل میں قومی شاہرہ پر 26 اگست 2024 کو جلائی جانے والی گاڑیوں کے پاس موجود ہے۔ پیر کو شدت پسندوں نے گاڑیوں پر حملے کر کے درجنوں افراد کو قتل کر دیا ہے (اے ایف پی)
سکیورٹی اہلکار ضلع موسیٰ خیل میں قومی شاہرہ پر 26 اگست 2024 کو جلائی جانے والی گاڑیوں کے پاس موجود ہے۔ پیر کو شدت پسندوں نے گاڑیوں پر حملے کر کے درجنوں افراد کو قتل کر دیا ہے (اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا، "پنجاب جانے والی گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا، اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شناخت کر کے گولی مار دی گئی۔" انہوں نے کہا کہ 19 پنجابی اور 3 بلوچ مارے گئے جن میں زیادہ تر پنجابی مزدور تھے۔

ضلع کے ایک اور سینیئر اہلکار حمید زہری نے اے ایف پی کو ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے دہشت گرد ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی خطے میں سب سے زیادہ سرگرم عسکریت پسند علیحدگی پسند گروپ ہے۔

ادھر بلوچستان کے ضلع قلات میں مسلح حملہ آورں کی فائرنگ سے پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ ایس ایس پی قلات دوستین دشتی کے مطابق فائرنگ سے پولیس کا سب انسپکٹر، 4 لیویز اہلکار اور 5 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

عسکریت پسندوں نے بولان کے علاقے میں ایک ریلوے ٹریک کو بھی دھماکے سے اڑا دیا، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان حملوں کا مؤثر جواب دیا ہے۔ علیحدگی پسند کالعدم گروپ، بلوچ لبریشن آرمی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ حملہ شورش زدہ جنوب مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ مہلک حملوں میں سے ایک تھا۔ صوبہ بلوچستان کے سینیئر پولیس اہلکار ایوب اچکزئی نے کہا کہ یہ واقعات اتوار اور پیر کی درمیانی رات اور علی الصبح پیش آئے۔

26 اگست 2024 کو صوبہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں قومی شاہراہ پر جلی ہوئی گاڑیاں موجود ہیں (اے ایف پی)
26 اگست 2024 کو صوبہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں قومی شاہراہ پر جلی ہوئی گاڑیاں موجود ہیں (اے ایف پی)

یہ حملے کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے لوگوں کو ہائی ویز سے دور رہنے کی تنبیہ کے چند گھنٹے بعد ہوئے۔

حملوں کی مذمت

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے موسیٰ خیل میں ’دہشت گرد حملے‘ پر شدید غم وغصے کا اظہار اور شدید مذمت کرتے ہوئے ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت ہے۔‘

ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ اس واقعے کے ذمہ دار ’دہشت گردوں‘ کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں گیۙ، ’ملک میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی قطعاً قبول نہیں۔

’ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔‘

وفاقی وزیر داخلہ کی مذمت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے بدترین واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسیٰ خیل کے قریب دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بناکر ظلم کا مظاہرہ کیا، سفاکیت اور ظلم کی انتہا کی گئی، دہشت گردوں اور سہولت کار عبرتناک انجام سے بچ نہیں پائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ زندگی کے ہر طبقے نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی موسیٰ خیل کے قریب دہشت گردی کے بدترین واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے 23 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ موسیٰ خیل کے قریب دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا، دہشت گرد اور سہولت کار عبرتناک انجام سے بچ نہیں پائیں گے، بلوچستان حکومت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں