پاکستان نے ایران گیس پائپ لائن ثالثی کے لیے دو امریکی قانونی فرموں کی خدمات حاصل کرلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

پاکستان نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے تنازعہ کی ثالثی کے لیے دو امریکی لاء فرمز کی خدمات حاصل کر لی ہیں ۔ یہ خدمات ایران کی طرف سے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی آربیٹریشن کے لیے مقدمہ دائر کرنے کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔

اس امر کی تصدیق پاکستان کے اٹارنی جنرل نے بھی پیر کے روز کی ہے۔ ایران نے پاکستان کی طرف سے گیس پائپ لائن کے سلسلے میں معاہدے کو درمیان میں لٹکا رکھنے کے باعث تنازعے کو انٹر نیشنل آربیٹریشن سے رجوع کیا ہے۔

ایران نے اس معاملے میں پاکستان سے 18 ارب ڈالر جرمانے کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ یاد رہے دونون ملکوں کے درمیان اس معاہدے کے لیے دستخط 2010 ہوئے تھے کہ پاکستان ایران سے گیس خریدے گا۔

مگر یہ منصوبہ فنڈز کی کمی اور بعض دیگر وجوہ کے باعث ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ پاکستان نے ماہ مارچ میں کہا تھا کہ ' امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی پابندیاں ہٹائی جانے کے بعد معاملے کوآگے بڑھاسکے گا بصورت دیگر پاکستان خود بھئ پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے بتایی ہے۔ انہون نے کہا پاکستان کا مقدمہ بہت مضبوط بتایا ہے۔اس لیے آسانی سے مقدمہ جیت لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں