پاکستان کا اقوام متحدہ میں مطالبہ: انروا کو سیاسی، مالی اور آپریشنل مدد فراہم کی جائے
گذشتہ ماہ سے انروا پر اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر کام کرنے پر پابندی ہے
پاکستان نے جمعرات کے روز بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گذشتہ ماہ ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت اگلے سال جنوری کے آخر میں اس ادارے کے ملک میں کام کرنے پر پابندی لگ جائے گی۔ اسی تناظر میں پاکستان نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ نے گذشتہ ماہ انروا پر اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا جس سے اس کی غزہ اور اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ غزہ کی بیس لاکھ سے زیادہ کی تقریباً تمام آبادی ایجنسی کی امداد اور خدمات پر انحصار کرتی ہے۔
اس اقدام کو بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انروا نے خبردار کیا ہے کہ نیا قانون آئندہ ہفتوں میں امداد کی فراہمی کے سلسلے کو "ختم" کر سکتا ہے۔ اسرائیل نے یہ الزام دہراتے ہوئے اپنے اس اقدام کا دفاع کیا ہے کہ ایجنسی کا متعدد عملہ سات اکتوبر کو حماس کے حملوں میں ملوث تھا جن میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اسرائیل سے کہا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں انروا کی جگہ بدلنے کی ذمہ داری قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی ہو گی۔
اقوامِ متحدہ کی چوتھی کمیٹی کے اجلاس میں ایک بیان میں اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کے فرسٹ سکریٹری انصار شاہ نے "اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی اہمیت پر زور دیا کہ انروا فعال رہے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اپنا اہم انسانی کام جاری رکھے۔"
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے کہا، "انہوں نے اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک سے انروا کو سیاسی، مالی اور آپریشنل مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایجنسی کی کارروائیوں کو برقرار رکھنا اور اس میں توسیع خطے میں اسرائیل کی کارروائیوں کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔"
"پاکستان انروا کی کارروائیوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی کوششوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے مقرر کردہ عارضی اقدامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔"
شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو انروا کا خاتمہ روکنے کے لیے قدم اٹھانا چاہیے جس کی وجہ سے لاکھوں فلسطینی تعلیم، صحت اور سماجی مدد جیسی ضروری خدمات تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
1949 میں قائم ہونے والی ایجنسی انروا غزہ، مغربی کنارے، شام، لبنان اور اردن میں ابتدائی طور پر ان 700,000 فلسطینیوں کی نگہداشت کے لیے کام کرتی ہے جو ریاستِ اسرائیل کے قیام کے بعد گھروں سے زبردستی بے دخل کر دیئے گئے یا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ کئی عشروں کے دوران ایجنسی غزہ میں کام کرنے والی اقوامِ متحدہ کی سب سے بڑی ایجنسی بن گئی ہے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایجنسی نے کہا ہے کہ اس نے تقریباً 1.9 ملین لوگوں میں خوراک کے پارسل تقسیم کیے اور تنازع کے دوران چھے ملین کے قریب طبی مشورے بھی پیش کیے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق ان فرائض کی انجام دہی کے دوران اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں انروا عملے کے 200 سے زائد ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔
-
'انروا' پر اسرائیلی پابندی کے تباہ کن نتائج ہوں گے : فلپ لازارینی
اسرائیلی پارلیمنٹ 'کنیسٹ' نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی 'انروا' پر ...
بين الاقوامى -
انروا' پر پابندی کے بعد غزہ و مغربی کنارے میں ریلیف کا ذمہ دار اسرائیل ہو گا
انتہائی دائیں بازو کی نیو ہوپ پارٹی کے بانی میں ساعر کوئی کرشمہ ساز شخصیت نہیں۔ ...
مشرق وسطی -
انروا ایجنسی کا سمجھوتا ختم کرنے کا اعلان، اقوام متحدہ کا اسرائیل کو جواب
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے اس اعلان کا جواب دیا ہے ...
بين الاقوامى