اقوام متحدہ نے ' انروا' پر پابندی لگانے والے اسرائیل کو صاف کہہ دیا ہے، اب اس ریلیف ایجنسی کا متبادل سامنے لانا اسرائیل کی ذمہ داری ہے ہماری نہیں ہے ۔ اس لیے غزہ اور مغربی کنارے میں ریلیف کے لیے کیا کرنا ہے یہ اسرائیل کا مسئلہ ہے۔ اس امر کا اظہار ایک خط کے ذریعے کیا گیا ہے جو بین الاقوامی خبر رساں ادارے' رائٹرز ' کی نظر سے بھی گزرا ہے۔
اقوام متحدہ نے' انروا ' کے خلاف پابندی لگانے پر اسرائیل کو پہلی بار باقاعدہ طور پر لکھے گئے خط میں جواب دیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے اس پابندی لگانے کے بعد ' انروا' کے حکام نے کہا ہے ہمارے ' آپریشنز ' کے لیے غزہ اور مغربی کنارے میں خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
اپنی پارلیمنٹ میں بنائے گئے نئے قانون کے تحت موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 1967 سے جاری اپنے ' انروا' کے ساتھ تعاون کرنے کے معاہدے کو ختم کر رہے ہیں۔ اسی قانون کے تحت اسرائیل نے ' انروا ' پر پابندی عاید کی ہے۔ ' انروا' کے آپریشنز جنوری کے اواخر سے بند ہو جائیں گے۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا ہے ' میں ایک نکتے پر بات کرنا چاہوں گا کہ اب جبکہ اسرائیل نے ' انروا ' پر پابندی لگائی ہے تو وہی اس کے متبادل ریلیف ایجنسی کے حوالے سے ذمہ دار ہو گا۔ یہ بات منگل کے روز اسرائیلی خارجہ امور کے حکام کو کہہ دی ہے۔
واضح رہے اقوام متحدہ غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیلی مقبوضہ علاقے کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کی ہی ذمہ داری ہے کہ اپنے زیر قبضہ علاقے کے لوگوں کی ضروریات پوری کرے۔ ان کے لیے ریلیف پروگرام سامنے لائے۔ ہر طریقے سے یہی ایک حل ہے کہ اسرائیل اپنی ذمہ داری پوری کرے ان کی خوراک کو یقینی بنائے ، طبی ضروریات کی فراہمی ممکن بنائے اور عمومی معیار کا صحت مندانہ ماحول فراہم کرے۔
تاہم اقوم متحدہ کے اس جواب کے بارے میں اسرائیلی مشن نے فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے بعد ازاں اس خط کے بارے میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ' اسرائیل کو باور کرایا ہے کہ اگر 'انروا' اپنا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہنے دیا گیا تو اس کی ذمہ داریاں اسرائیلی حکام کی طرف منتقل ہو گئی ہیں۔' اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ' انروا' کو غزہ میں درپیش انسانی بحران کے لیے 'ریسپانس ' ریلیف کے کام کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیا ہے۔ جہاں سات اکتوبر سے جاری جنگ کی وجہ سے سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور قحط کا بھی شدید خطرہ ہے۔
اسرائیل کے اقوام متحدہ کے لیے نمائندہ ڈینی ڈینن نے جنرل اسمبلی میں کہا ' انروا' کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو یہ ناکامی ہے۔' جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس 'انروا'پر پابندی کے کے بعد منعقد کیا گیا تھا۔
واضح رہے 'انروا' کا ادارہ اقوام متحدہ نے 1949 میں قائم کیا تھا تاکہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے ریلیف کا کام کرتا رہے۔ تب سے اسرائیل نے فلسطینیوں کو بے گھر کر کے مارنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جبکہ 'انروا ' ان بے گھروں کو فوری ریلیف کے لیے سرگرام رہتی ہے۔ اس کے صرف غزہ میں 13000 کارکن فلسطینیوں کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ یہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے پناہ گزین کیمپ قام کرکے ان کی خوراک سے رہائش ، صحت اور بچوں کی تعلیم کا اہتمام کرتی ہے۔
'انروا' کے سربراہ لازارینی نے بدھ کے روز جنرل اسمبلی کو بتایا تھا کہ ' انروا' کے آپریشنز اسرائیل کی طرف سے بند کر دیےجانے کے بعد بہت سنگین مضمرات اور مسائل کا سامنا ہوگا۔لاکھون فلسطینیوں کو سب سے پہلے ایک نئی مصیبت اور المیہ کے تسلسل کی زد میں دیکھنا پڑے گا۔