اقوامِ متحدہ کے صنفی ایوارڈ کے بعد پاکستانی افسر کی خواتین فوجیوں کی اگلی نسل کی تشکیل

کومل مسعود کی تیار کردہ رہنما اصول اقوامِ متحدہ کے مشنز میں نافذ کیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

جب پاکستان کی میجر کومل مسعود کو گذشتہ سال وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا تو انہیں کبھی یہ توقع نہ تھی کہ ان خدمات کی بنا پر انہیں صنفی وکالت کے لیے 2023 کا سرٹیفیکیٹ آف ریکگنیشن ملے گا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی مشن کی اولین خاتون امن فوجی ہیں۔

آج اقوامِ متحدہ کے مشن سے واپسی کے بعد 33 سالہ کومل شمال مغربی قصبے کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) میں پلاٹون کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہاں وہ 17 خواتین کیڈٹس کی قیادت کر رہی ہیں جس سے ملک کی خواتین فوجی افسران کی اگلی نسل تشکیل پا رہی ہے۔

ہر صبح کومل نوجوان کیڈٹس کی میدان میں سخت مشقوں کے دوران نگرانی کرتی ہیں۔ وہ انہیں فوجی ہتھیاروں اور آلات کے استعمال کی ہدایت اور کلاس روم میں فوجی حکمتِ عملی کے بارے میں سبق دیتی ہے۔

کومل نے 2014 میں پاکستان آرمی کے کور آف سگنلز میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جنوری کی ایک خوشگوار صبح ملٹری اکیڈمی کے سرسبز میدان میں تربیتی مشق سے قبل انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میری کمان میں 17 لیڈی کیڈٹس ہیں جن میں سے دو بنگلہ دیش سے ہیں۔ اور یہاں میرا کام انہیں تربیت دینا، ان کی رہنمائی کرنا اور ان کی ذات کی ایک بہتر صورت بنانا ہے۔ میں نے جو کچھ [اقوامِ متحدہ] مشن سے سیکھا ہے، میں اپنے کیڈٹس میں ان کے کیریئر کے آغاز سے ہی یہ تبدیلی داخل کرنا چاہتی ہوں۔ ہم ان میں اس تبدیلی کو فروغ دینے، قائدانہ صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کی خوبیاں پیدا کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔"

اقوامِ متحدہ کے ایک سالہ مشن کے دوران مسعود صنفی وکالت کو فروغ دینے اور مشن کی کارروائیوں کے تمام پہلوؤں میں صنفی نکتۂ نظر کو مربوط کرنے کی ذمہ دار تھیں۔

انہوں نے کہا، "میرا کردار صنفی نکتۂ نظر کو مشن کے تمام پہلوؤں میں ضم کرنا تھا خواہ وہ گشت ہو، انٹیلی جنس ہو یا آپریشنل منصوبہ بندی۔ میں وہاں پر سنٹر سیکٹر ہیڈ کوارٹر کی واحد ممبر تھی۔ اور میں بچوں کے تحفظ، جنسی استحصال اور بدسلوکی، شہریوں کے تحفظ کی نگرانی کر رہی تھی۔ میں نے کئی پالیسیاں بنائیں جن کی نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نے منظوری دی اور پھر انہیں دنیا کے تمام مشنز میں تعینات کیا گیا تھا۔"

کومل مسعود نے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے متعدد کیسز کی بھی تحقیقات کیں جن کے نتیجے میں فورسز سے کئی افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پالیسی یا چیک لسٹ نہیں تھی جو خواتین امن فوجیوں کو ان کے کاموں، تیاریوں یا گشت کے طریقہ کار میں رہنمائی کرتی جس کی وجہ سے انہیں واضح ہدایات کے بغیر مرد ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا تھا۔

مسعود نے کہا، "میں نے کام کرنے والی خواتین امن فوجیوں کے لیے ایک جامع چیک لسٹ بنائی جو اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر بھیجی گئی۔ وہاں سے اسے منظوری مل گئی اور پھر اسے دنیا کے تمام مشنز میں تعینات کر دیا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کا ان کے کام کا اعتراف ایک "حوصلہ افزائی" تھا کیونکہ ان کے تیار کردہ پالیسی اصولوں اور چیک لسٹ سے ایک "دیرپا اثر" ہوا تھا جو امن فوج کے ساتھ ان کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہا۔ اس سے خواتین امن فوجیوں کو گشت کرنے اور متأثرہ کمیونٹیز کے ساتھ مشغولیت میں معاونت ملی۔

افسر کے لیے یہ سفر نہایت مشکل رہا لیکن انہوں نے فوجی خدمات کے تقاضوں کو ماں ہونے کے باوجود پورا کیا۔ جب وہ اقوامِ متحدہ کے مشن کے لیے روانہ ہوئیں تو ان کے دو بچوں میں سے ایک ابھی شیرخوار تھا۔ دونوں کی عمر چھے سال سے کم تھی۔

مسعود نے کہا، "شروع میں میں نے سوچا کہ میں اپنے بچوں کو ایک سال تک نہیں چھوڑ سکوں گی لیکن اگر میرے ملک نے، میرے اعلیٰ افسران نے مجھے کوئی کام تفویض کیا ہے تو مجھے یہ بہر صورت کرنا ہے تو کیوں نہ میں یہ کام مثبت طرزِ عمل کے ساتھ کروں۔"

آخر میں یہ سب کچھ بہترین ثابت ہوا کیونکہ ان کے خاندان کو ان کی کامیابیوں اور ان کے اثرات پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا، "انہیں مجھ پر بہت فخر ہے اور میری بیٹی ہمیشہ کہتی ہے، 'ماما، میں بھی یہ یونیفارم پہننا چاہتی ہوں'۔"

اور دیگر خواتین کے لیے مسعود کا پیغام واضح ہے: کوشش کرنا کبھی نہ چھوڑیں۔

اس نے اپنے طلباء کے ساتھ مشق شروع کرنے کے لیے جاتے ہوئے کہا، "آپ کسی سے کم نہیں ہیں۔ ایک بار جب آپ کچھ حاصل کر لیں تو خواہ آپ گھریلو خاتون ہوں یا پیشہ ور، وہیں نہ رک جائیں۔ ہمیشہ خوب سے خوب تر کے لیے کوشش کریں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں