راولپنڈی میں صدیوں پرانی مرکزی جامع مسجد ماہِ رمضان میں نمازیوں کی توجہ کا مرکز
تاریخ، فنِ تعمیر اور عقیدہ و ایمان یہاں یکجا نظر آتے ہیں
ایک بزرگ پاکستانی کاروباری شخصیت شیخ ساجد محمود راولپنڈی کے فوجی شہر کی ایک مسجد میں نمازِ ظہر کے بعد سردیوں کی دھوپ سینک رہے ہیں۔ ایک روحانی اور ثقافتی مرکز کے طور پر یہ عبادت گاہ اپنی پرسکون کشش کی بدولت محمود جیسے ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں۔
مصروف بازاروں سے گھری ہوئی، مرکزی جامع مسجد ایک فنِ تعمیر کا شاہکار ہے جو عقیدت مندوں کو عبادت کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے بلکہ اپنی دلآویز نقاشی اور پیچیدہ ڈیزائن کے ساتھ زائرین کو بھی اپنی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ خوبصورت نقوش راولپنڈی کے شاندار مذہبی اور ثقافتی ورثے کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
مسجد کی بنیاد 1896 میں اسلام آباد میں گولڑہ شریف کے ایک ممتاز مقامی مذہبی شخصیت پیر مہر علی شاہ کے ہمراہ امان اللہ خان نے رکھی جو بعد میں افغانستان کے بادشاہ بنے۔ تکمیل کے بعد سے مسجد شہر میں سنی مسلمانوں کے لیے ایک مرکزی عبادت گاہ رہی ہے جن کی تعداد ماہِ رمضان میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
مسجد کی وسعت کس طرح انہیں سکون کا احساس فراہم کرتی ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے محمود نے عرب نیوز کو بتایا، "میں [یہاں نماز ادا کرنے والوں کی] دوسری نسل سے ہوں۔ میری عمر اب تقریباً 60 سال ہے۔ [ہمیں] یہاں دعا کرنے سے بہت زیادہ روحانی تسکین ملتی ہے۔ سورج کی روشنی کو دیکھیں، صحن میں نماز کی صفوں کی قطاریں بچھی ہوئی ہیں۔ آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چھوٹی مساجد میں جگہ محدود ہوتی ہے۔"
مسجد کے امام مفتی محمد صدیق الحسنین سیالوی کا اس جگہ سے "گہرا تعلق" ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ مسجد راولپنڈی ڈویژن کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 7000 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ رمضان میں نمازِ تراویح کے انتظامات بہترین ہیں اور ہمارے پاس افطار کا بھی شاندار بندوبست ہوتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں لوگ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بھی کرتے ہیں۔
مرکزی جامع مسجد کا تعمیراتی حسن قابلِ دید ہے کیونکہ اس میں مغل فنِ تعمیر کے عناصر اور مقامی ڈیزائن کا امتزاج ہے۔ تین گنبدوں اور کئی میناروں پر مشتمل مرکزی عبادت گاہ روایتی مغل فنِ تعمیر کی شان ظاہر کرتی ہے جس میں محرابیں اور پیچیدہ پھولوں کی اشکال ہیں۔ مقامی فنِ تعمیر مسجد کو ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے جو راولپنڈی کے ثقافتی ورثے کا اظہار ہے۔
اندر دیواریں دستی نقاشی سے مزین ہیں جن میں سے بعض کو کئی سالوں میں بہت محنت سے بحال کیا گیا ہے۔ تفصیلی گل کاری کے نمونوں اور ہندسی توازن کے ساتھ نقاشی مغل دستکاری کی شان ہیں۔ اگرچہ بعض دیدہ زیب نیلے، سرخ اور زرد وقت کے ساتھ دھندلا گئے ہیں لیکن ان کی خوبصورتی بدستور برقرار ہے جو ایک طویل ماضی کی داستان بیان کرتے ہیں۔
مسجد کا کشادہ صحن احاطے کا قلب ہے جہاں نمازی ہال میں داخل ہونے سے پہلے جمع ہوتے ہیں۔ رمضان میں خاص طور پر افطار اور تراویح کے دوران مسجد بہت بارونق ہو جاتی ہے کیونکہ سب کے لیے خوش آئند ماحول پیش کرنے والی کشادہ جگہ ایک آرام دہ اجتماع کی اجازت دیتی ہے۔
مسجد میں باقاعدگی سے آنے والے وقاص اقبال نے کہا، "رمضان میں یہاں زیادہ رش ہوتا ہے۔ کھلے صحن لوگوں کے لیے آرام دہ ہیں۔ آپ کو تنگی محسوس نہیں ہوتی، خواہ موسم گرما ہو یا سردی۔"
لیکن محمود کے لیے مسجد امن کی پناہ گاہ ہے۔
اس جگہ کی وسعت سکون کا احساس فراہم کرتی ہے جس کی "چھوٹی مساجد میں اکثر کمی ہوتی ہے۔" اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے محمود نے بتایا، "کشادہ صحن اور پرامن ماحول کی بدولت یہ نماز کے لیے ایک خاص جگہ بن جاتی ہے۔"
راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد صرف عبادت گاہ سے بڑھ کر ہے جو زائرین کو شہر کے ماضی سے منسلک ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ پنجاب کے محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کے تحت اس کی انتظامیہ ہر 10 سے 15 سال بعد مسجد کی مرمت و بحالی کو یقینی بناتی ہے تاکہ اسے آئندہ نسلوں کے لیے برقرار رکھا جائے۔
امام مسجد سیالوی نے کہا، "اس عظیم الشان مسجد میں کئی اہم شخصیات نے نماز ادا کی ہے اور حرم شریف [مکہ میں] کے امام یہاں تشریف لائے اور نماز کی امامت کی ہے۔ ان تمام عوامل کی بنا پر یہ محلے کے مکینوں کے لیے اور راولپنڈی کے لیے ایک خاص جگہ اور اعزاز کی بات ہے۔
-
جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں ہے: پاکستان
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے ...
پاكستان -
پاکستان: شاہ سلمان ریلیف نے 50000 امدادی بیگ تقسیم کیے
سعودی عرب کے سب سے بڑے امدادی ادارے 'شاہ سلمان ریلیف' نے مفلس و نادار ملکوں میں ...
پاكستان -
پاکستان میں ریل گاڑی 'جعفر ایکسپریس' پردہشت گردانہ حملے پرسیکرٹری جنرل 'او آئی سی' کی مذمت
اسلامی ممالک کی تنظیم ' او آئی سی ' نے ریل گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے اور مسافروں ...
پاكستان