پاکستان میں دہشت گردی کی شدت اختیار کی ہوئی لہر کے دوران یکم جنوری سے 16 مارچ تک کم از کم 1141 افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات صوبہ بلوچستان میں ہوئے ہیں جہاں دہشت گردوں نے ایک ٹرین پر بھی حملہ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا۔
اس مسافر ٹرین کو دہشت گردوں کے حملے سے بچانے کے لیے فوج نے جوابی کارروائی اور تمام 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
ان سب دہشت گردوں کا تعلق صوبہ بلوچستان میں متحرک دہشت گرد تنظیم 'بی ایل اے' سے تھا۔
بعدازاں اتوار کے روز 3 پیرا ملٹری فورسز کے اہلکاروں سمیت کل 5 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ہلاکتیں ضلع نوشکی میں بم دھماکے کے نتیجے میں ہوئیں۔
نیم فوجی دستوں کے اعلیٰ ذمہ دار منگل کے روز باہم ملے اور انہوں نے ملک میں سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ نیز دہشت گردی روکنے کے لیے قومی اتفاق رائے اور سیاسی اتحاد پر بھی زور دیا۔
یاد رہے پچھلے مہینوں میں یکم جنوری سے 16 مارچ تک صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد 1141 بتائی گئی۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئیں۔
پاکستان کی بڑی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف جس کی صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بھی ہے نے دہشت گردی کے ایشو پر پارلیمنٹری پینل کا بائیکاٹ کیا۔ نیز یہ اعلان کیا کہ پی ٹی آئی صوبہ خیبرپختونخوا میں آپریشن کی حمایت نہیں کرتی۔ طلال چودھری نے پی ٹی آئی کے اس رویے کی مذمت کی ہے۔
-
اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائر کیمپ: پاکستان فٹبال ٹیم کی کل سعودی عرب روانگی
الاحساء میں پاکستان کا مقابلہ شام سے ہو گا
پاكستان -
سیاسی وعسکری قیادت کا دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہر آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ
قومی سلامتی کمیٹی کا طویل اور جامع اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی اور ...
پاكستان -
کون سے ملک نے 2025ء کے آغاز سے اب تک اپنے شہریوں کو 20 لاکھ الیکٹرک بائک فروخت کیں؟
چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ 2025ء کے آغاز سے لے کر گذشتہ منگل تک ملک کے ...
بين الاقوامى