"پاکستانی فنکاروں کو بھارتی پراجیکٹس سائن کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینی چاہیے "

بھارتی فلم پر پابندی صرف اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ فواد خان پاکستانی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستانی اداکار فواد خان کی بالی ووڈ فلم ’عبیر گلال‘ کی ریلیز پر بھارتی سینما فیڈریشن نے پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد معروف پاکستانی فلمساز و ہدایت کار نبیل قریشی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستانی اداکاروں سے کوئی بھی بھارتی پروجیکٹ سائن کرنے سے پہلے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) طلب کرے۔

رومانوی مزاحیہ فلم سے خان کی تقریباً نو سال بعد بھارتی فلمی صنعت میں خاصے انتظار کے بعد واپسی ہو رہی ہے۔ فلم میں خان جو بھارت میں بہت زیادہ مشہور ہیں، نے بھارتی اداکارہ وانی کپور کے ساتھ کام کیا ہے جس کی نو مئی کو ریلیز طے شدہ ہے۔

تاہم بھارتی میڈیا نے جمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سِنے ایمپلائیز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے حکام کو اس پر پابندی لگانے کے لیے کہا تھا جس کے بعد یہ بھارت میں ریلیز نہیں ہو گی۔ اس مطالبے کی وجہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کا حالیہ حملہ ہے جس میں 26 بھارتی سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

نئی دہلی نے حملے کا الزام پاکستان پر لگایا ہے جبکہ اسلام آباد نے اس کی تردید کی ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف اقدامات اور ویزا کی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ہدایت کار نبیل قریشی نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ ملک کے وقار کا معاملہ ہے۔ جس طرح بھارت پاکستان پر مکمل پابندیاں لگا رہا ہے تو ہماری حکومت بھی اداکاروں سے کہے کہ وہ مستقبل میں وہاں کوئی بھی پروجیکٹ سائن کرنے سے پہلے این او سی حاصل کریں۔"

قریشی کے مطابق بھارت کی ایک بہت بڑی فلم انڈسٹری ہے اور بہت سے پاکستانی فنکار وہاں کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے اداکاروں میں نہ صرف فنکاروں بلکہ پاکستانیوں کی حیثیت سے بھی کچھ دیانت داری ہونی چاہیے۔ حالیہ پہلگام حملے سے قطع نظر بھارت ایک ایسا ملک ہے جو آپ کو بالکل بھی خوش آمدید نہیں کہتا۔"

انہوں نے مزید کہا، "فلم کی ریلیز کے بارے میں پہلے ہی قیاس آرائیاں جاری تھیں، اب فلم کا ہندوستان میں ریلیز ہونا ناممکن ہے۔"

یاد رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُڑی قصبے میں 2016 میں باغیوں کے ایک حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستانی فنکاروں کو اپنے ملک میں کام کرنے سے روک دیا تھا۔ اس حملے میں 2016 میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

فواد خان کی فلم عبیر گلال کی تشہیر کا آغاز دبئی میں اس کے میوزک لانچ کے ساتھ ہوا۔ لیکن پہلگام حملے کے بعد یوٹیوب انڈیا سے فلم کے دو گانے 'خدایا عشق' اور 'انگریجی رنگرسیا' ہٹا دیے گئے ہیں۔

پاکستانی فلمی نقاد اور صحافی کامران جاوید نے عرب نیوز کو بتایا، "ایسا نہیں تھا کہ یہ بات غیر متوقع تھی۔ سینما بین [پاکستان میں] فلم کا پرتپاک خیرمقدم کریں گے۔ تاہم ایف ڈبلیو آئی سی ای کے شدید پاکستان مخالف مؤقف کے پیشِ نظر فلم کو یہاں ریلیز کرنے کا فیصلہ انہیں بھارت میں صرف مشکلات سے دوچار کرے گا۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا۔"

پاکستان کے ایک معروف فلم امپورٹر اور تقسیم کار ندیم مانڈوی والا جو کراچی میں ایک سینما کے بھی مالک ہیں، نے کہا، موجودہ حالات میں فلم کی ریلیز پر بھارت کی پابندی "قابلِ فہم" ہے۔

انہوں نے کہا، "مبینہ طور پر پاکستان نے بھی فلم کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اداکار ہمیشہ امن و محبت کی ترویج میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ موقع ملنے کی صورت میں فریقین کی یہ کوشش قابلِ ستائش ہے۔"

دوسری جانب جاوید نے کہا، پاکستان اور بھارت کے درمیان انتہائی باریک اور کانٹے دار تعلقات کے پیشِ نظر پاکستانی اداکاروں کو پاکستانی پروڈکشنز کے معیار کو بڑھانے کے لیے ایک "فعال کردار" ادا کرنا چاہیے۔"

انہوں نے کہا، "انہیں بالی ووڈ کے پیچھے اس لیے نہیں بھاگنا چاہئے کہ وہاں سامعین کی تعداد زیادہ ہے یا تنخواہ بہتر ہے۔ 'فنون سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں" اور 'فنون فرق پیدا کر سکتے ہیں' والا منتر صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک کی صنعتوں میں باہمی تعاون ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں