پاک فوج نے دشمن کے منہ پر ایسا تھپڑ رسید کیا جسے وہ عمر بھریاد رکھے گا: وزیراعظم
"صدر ٹرمپ کی سٹریٹجک قیادت سے دنیا کے اس حصے میں ایک بہت ہی مہلک جنگ ٹل گئی"
وزیراعظم شہباز شریف نے یوم تشکر کے سلسلےمیں پاکستان مونومنٹ پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے منہ پر ایسا تھپڑ رسید کیا جسے وہ عمر بھر یاد رکھے گا، جو دشمن خود کو جنوبی ایشیاء کا تھانیدار سمجھتا تھا اس کے چھ جہاز گرائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "صدر ٹرمپ کی راہ ہموار کرنے والی اور سٹریٹجک قیادت سے یہ ممکن ہوا دنیا کے اس حصے میں ایک بہت ہی مہلک جنگ ٹل گئی۔"
آپریشن بُنیان مرصوص میں کامیابی پر اسلام آباد میں ’’یوم تشکر‘‘ کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت شرکاء کو سلامی پیش کی۔
تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس، وفاقی کابینہ کے ارکان، غیرملکی سفارت کار، نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع، وزیر اطلاعات اور دیگر وزرا نے شرکت کی۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا ، شاہینوں نے فلائی پاسٹ کے ذریعے قوم کے ولولے اور جذبے کو سلام پیش کیا، تقریب کے شرکا نے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی اور درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی جبکہ مختلف تعلیمی اداروں کے بچوں نے شہدا کی یاد میں ملی نغمے پیش کرکے عقیدت کا اظہار کیا، جنہیں شرکا نے خوب سراہا۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز اور اپنی جانیں نچھاور کرنے والے عظیم شہدا کے عظیم والدین، اہل خانہ، وفاقی وزرا، چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف جنرل شمشاد ساحر مرزا، سپہ سالار بری فوج جنرل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر، جنرل افسران، سرکاری افسران اور معزز سفارت کاروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اس محفل میں ہمارے انتہائی قابل احترام صحافی، بہن اور بھائی موجود ہیں، پاکستان کے مایہ ناز فنکار موجود ہیں اور یہاں پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام غازی بھی موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کا دن یوم تشکر ہے، یہ دن دنیا کی تاریخ میں کسی کسی کو ملتا ہے اور صدیوں بعد ملتا ہے، اللہ تعالیٰ فضل و کرم ہے کہ آج سے تقریباً 50 سال قبل ایک دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری مخلصانہ پیشکش کو دشمن نے ٹھکرایا ہے جس میں ہم نے کہاتھا کہ ایک عالمی تحقیقاتی کمیٹی بناتے ہیں جو پوری تحقیقات کے بعد دنیا کو حقائق بتادے گی، مگر دشمن نے انتہائی تحکمانہ انداز میں، غرور کے نشے میں بدمست ہوکر پاکستان پر حملہ کردیا اور بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا جن میں چھ سالہ بچہ بھی شہید ہوا، مائیں، بہنیں، بزرگ اور جوان شہید ہوئے، اور دشمن نے یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کے اندر جاکر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دشمن کے چھ جہاز گرائے ، جو کہ جنوبی ایشیا میں خو د کو تھانیدار سمجھتا تھا، اور یہ سمجھتا تھا کہ پاکستان اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اسی پاکستان کے شاہینوں نے جھپٹ جھپٹ کر ان کے رافیل بھی گرائے، مگ اور رافیل بھی گرائے، اور ایسا ڈراؤنا خواب دکھایا کہ قیامت وہ اس خواب سے نکل نہیں سکیں گے، مگر اس کے باوجود بھی دشمن دھمکیاں رہا، اور پھر نو مئی کی رات کو ہم نے فیصلہ کیا ہم جواب دیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے بعد جنرل عاصم منیر نے مجھ سے کہا کہ اجازت دیں کہ دشمن کے منہ پر ہم ایسا تھپڑ رسید کریں گے کہ وہ عمر بھر یاد رکھے گا، اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح پٹھان کوٹ، ادھم پور اور دوسرے مقامات پر ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں نے حملے کیے اور دشمن کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کا پھر مجھے فون آیا اور کہا کہ ہم نے دشمن کو بھرپور جواب دیا ہے اور اب ہمیں سیز فائر کرنے کی درخواست کردی ہے، میں نے کہا کہ اس سے بڑی عزت کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ آپ نے دشمن کو سیز فائر پر مجبور کر دیا ہے، میں نے کہا کہ آپ سیز فائر کی پیشکش کو قبول کرلیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے ایئرچیف اور ان کے شاہینوں نے جس طرح ملک میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو چینی طیاروں کے ساتھ استعمال کیا اس سے دنیا کے ہوش اڑ گئے اور دوستوں کا اعتماد آسمان سے باتیں کرنے لگا، امریکا سے لے کر جاپان تک اور ہر جگہ آج یہ بات ہورہی ہے کہ پاکستان کی افواج نےکس طرح خاموشی سے یہ صلاحیت کر لی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کو دن رات باور کروا رہا تھا کہ اس کی معیشت کھربوں ڈالر میں ہے، اور اسلحے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور اسے خطے کا بادشاہ تسلیم کیا جائے، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا، اور اللہ رب العزت نے یہ عظیم فتح پاکستان کو دی جس کے لیے ہم آج یوم تشکر اس طرح منا رہے ہیں کہ پوری قوم کے سر رب ذوالجلال کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ تنازعے میں امریکی صدر ٹرمپ کی ’سٹریٹجک قیادت اور وژن‘ کے باعث خطے میں ایک خونریز جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ان کی جرات مندانہ قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں ان تمام دوست ممالک کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے دنیا کے اس حصے میں امن اور جنگ بندی کو فروغ دینے میں بہت مدد کی ہے۔ ’خاص طور پر خلیجی ممالک میں اپنے برادر ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ایران، ترکی، چین اور دیگر ممالک کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔
وزیر اعظم نے برطانیہ کے علاوہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ’سب سے بڑھ کر میں صدر ٹرمپ کی بہادر قیادت اور ان کے جنوبی ایشیا میں جلد از جلد امن بحالی کے ویژن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔‘
تقریب سے خطاب میں شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں صدر ٹرمپ کی راہ ہموار کرنے والی اور سٹریٹجک قیادت سے یہ ممکن ہوا دنیا کے اس حصے میں ایک بہت ہی مہلک جنگ ٹل گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج وہ مقام عطا کیا ہے اب کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی، آج پوری قوم یک جان دو قالب ہے اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج وقت آگیا ہے کہ اس سفر کا آغاز کردیں جس کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔
-
پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر معاہد ے میں اتوار تک توسیع پر اتفاق
پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ...
بين الاقوامى -
سعودی ولی عہد کا پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم
جی سی سی-امریکہ سمٹ کے موقع پر محمد بن سلمان کی شام سے پابندیاں ہٹانے پر امریکی ...
مشرق وسطی -
بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے بعد 32 ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیئے
بھارت نے ہفتے کے آخر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پیر کو 32 ایئرپورٹس دوبارہ کھول ...
بين الاقوامى