نجی سکیم کے تحت صرف 25 ہزار 698 عازمین حج پر جا سکیں گے: حکومت پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

رواں برس پاکستان میں نجی حج سکیم کے حوالے سے ایک سنگین انتظامی کوتاہی سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہری حج کی سعادت سے محروم رہ گئے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے بتایا ہے کہ نجی حج سکیم میں انتظامی سستی کے باعث صرف 25 ہزار 698 عازمین ہی حج پر روانہ ہو سکیں گے، جب کہ مختص کوٹہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے اپنے حصے کے سرکاری کوٹے کو تو مکمل طور پر استعمال کیا، تاہم نجی سکیم کے لیے مقرر کردہ طریقہ کار پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی شہری اس سال حج پر جانے سے محروم رہ گئے۔

وفاقی دارالحکومت میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار یوسف نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے مارچ میں وزارت کا چارج سنبھالا، اُس وقت تک حج پالیسی کی منظوری پہلے ہی نومبر میں دی جا چکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حج کا کل کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 افراد کے لیے مقرر کیا گیا تھا، جسے مساوی طور پر سرکاری اور نجی سکیمز میں تقسیم کیا گیا تھا۔ وزارت مذہبی امور نے سرکاری سکیم کے تحت تمام مراحل مکمل کرتے ہوئے سعودی حکام سے منظوری حاصل کی اور مقررہ وقت میں ادائیگیاں بھی کر دی گئیں، مگر نجی حج سکیم کے تحت جو کمپنیاں اور این جی اوز کام کر رہی تھیں، وہ سعودی وزارت حج کے مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد میں ناکام رہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ نجی سکیم سے منسلک تنظیم ہوپ اور اس سے وابستہ کمپنیاں 500 یا 2000 عازمین پر مشتمل کلسٹرز بنانے کے قواعد پر عمل نہ کر سکیں۔ سعودی حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ صرف وہ کمپنیاں جن کے پاس 2000 افراد کی مکمل فہرست ہو گی، وہی اجازت کی حقدار ہوں گی، لیکن پاکستانی کمپنیاں بروقت یہ ہدف حاصل نہ کر سکیں۔ اگرچہ ہوپ نے مجموعی طور پر 41 کلسٹرز تشکیل دیے، مگر جب بکنگ کے لیے ادائیگی کی مہلت دی گئی، تو مقررہ تاریخ 14 فروری تک محض 3600 افراد کی جانب سے ادائیگیاں موصول ہو سکیں۔

وزارت نے اس ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کرتے ہوئے اضافی سات دن اور پھر 48 گھنٹے کا وقت دیا، لیکن اس کے باوجود بھی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہو سکی۔ اضافی وقت کے دوران مزید 10 ہزار کے قریب ادائیگیاں ہوئیں، جس کے نتیجے میں صرف 13 ہزار 600 کے قریب عازمین کی تصدیق ہو سکی۔ یہ صورتحال اس وقت سنگین شکل اختیار کر گئی جب سعودی حکام نے واضح طور پر بتایا کہ تمام اسلامی ممالک کے لیے مشترکہ اصول ہیں اور کوئی انفرادی توسیع نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی وزیر کے مطابق جب انہیں صورت حال کا ادراک ہوا تو وہ خود سعودی عرب پہنچے اور وہاں کے وزیر سے ملاقات کر کے پاکستان کے لیے خصوصی رعایت کی درخواست کی۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر خارجہ کو سعودی ہم منصب سے رابطہ کرنے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو اضافی 10 ہزار کا خصوصی کوٹہ دیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 25 ہزار 698 افراد کے لیے نجی سکیم کے تحت حج کی راہ ہموار ہوئی، لیکن باقی ہزاروں پاکستانی عازمین اس سال حج سے محروم رہے۔

پریس کانفرنس میں سردار یوسف نے اس امر پر زور دیا کہ وزارت نے اپنے حصے کی تمام ذمے داریاں وقت پر پوری کی تھیں اور ہوپ (نجی ٹور آپریٹرز کی تنظیم) سمیت تمام نجی کمپنیوں کو وقت پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔ اشتہارات، اجلاسوں اور رابطوں کے ذریعے بار ہا وضاحت کی گئی کہ صرف منظور شدہ کمپنیوں کے ذریعے ہی عازمین بکنگ کریں ورنہ وہ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے نجی شعبے کی غفلت نے اس حج سیزن کو ہزاروں لوگوں کے لیے تلخ تجربہ بنا دیا۔

وفاقی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے جو نجی کمپنیوں کی جانب سے غفلت کے اسباب کا جائزہ لے رہی ہے۔ سردار یوسف کے مطابق جب اس رپورٹ کی سفارشات سامنے آئیں گی تو ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں