عازمینِ حج قربانی، رمی جمرات سے متعلق سعودی ہدایات پر عمل کریں: حکومتِ پاکستان کی تاکید
حجاج کو پابندی وقت کی سختی سے ہدایت
پاکستان حج مشن مکہ مکرمہ نے ملک کے عازمینِ حج کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے یا "رمی الجمرات" اور قربانی کی رسومات سے متعلق جاری کردہ سعودی ہدایات پر عمل کریں، سرکاری میڈیا نے پیر کو اطلاع دی۔
عازمینِ حج رمی کی علامتی کارروائی میں حصہ لیتے ہیں جو حج کی آخری رسومات میں سے ایک ہے۔ 10 ذوالحجہ سے شروع ہونے والے حج کے تین ایام کے دوران حجاج منیٰ میں تین علامتی ستونوں کو کنکریاں مارتے ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی ہے کہ 10 ذی الحجہ کو رمی جمرات کے لیے ہر مکتب میں وقت مقرر کیا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان نے کہا، "ہر 'ناظم' اس بات کو یقینی بنانے کا پابند ہے کہ عازمینِ حج اس رسم کو اپنے مقررہ وقت کے مطابق انجام دیں۔ اس لیے تمام عازمین کو مشورہ ہے کہ وہ مقررہ وقت کے مطابق اپنے 'ناظم' کی نگرانی میں گروپس میں آگے بڑھیں۔"
ریڈیو پاکستان نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ سعودی حکام نے 10 اور 11 ذی الحجہ کی درمیانی رات کو 12:30 بجے پاکستانی حجاج کے لیے جانوروں کی قربانی کا وقت مقرر کیا ہے۔
نشریاتی ادارے نے کہا، "اس لیے تمام عازمین سے گذارش ہے کہ وہ پہلے دن کی 'رمی' نصف شب سے پہلے مکمل کر لیں۔ پاکستانی مشن نے حجاج کو سختی سے تاکید کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے بچنے کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔"
حج کے دوران عازمین کو ایک جانور کی قربانی کرنا ہو گی۔