پاکستانی زائرین اگلے سال سے زیارات کے لیے انفرادی طور پر عراق نہیں جا سکیں گے، محسن نقوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال سے عراق میں زیارتوں کے لیے جانے والے شیعہ زائرین انفرادی طور پر عراق نہیں جا سکیں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی درخواست پر سہ فریقی اجلاس میں کیا گیا ہے۔

اجلاس ایران میں منعقد ہوا جبکہ اس میں پاکستان، ایران اور عراق کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پیش آنے والی بعض حالیہ پیچیدگیوں اور زائرین کو پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

یاد رہے ہر سال پاکستان سے بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان زیارات کے لیے عراق جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایسے ہی زائرین کو واپس لانے میں حکومت پاکستان کو غیر معمولی انخلائی کوششیں کرنا پڑی تھیں۔ جس کے نتیجے میں 260 پاکستانیوں کو عراق سے اور 450 پاکستانیوں کو ایران سے
اسرائیل ایران جنگ کے دوران پھنس جانے کے باعث واپس لایا گیا تھا۔

وزارت خارجہ کے مطابق ان افراد کے واپس لانے کی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں جو غیر قانونی طور پر ان ملکوں میں گئے تھے۔

اب سہ فریقی اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے بعد اگلے سال سے ان ٹریول گروپس کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ پاکستان سے ایران و عراق لے جانے جانے والے زائرین کی محفوظ واپسی کو بھی یقینی بنائے گی اور وہاں کسی شہری کو مشکل پیش نہیں آنے دیں گے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے سہ فریقی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اس سلسلے میں پاکستان کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تینوں ملک ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ بنائیں گے جو زائرین کے معاملات کو دیکھے گا۔

وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا ہم ان لوگوں کو بھی چیک کریں گے جو اپنے ویزے کی مدت کے بعد عراق و ایران میں ٹھہرنا پسند کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی چیک کریں گے جو ویزٹ ویزے کے باوجود وہاں رک جاتے ہیں اور روزگار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہمیں ایران و عراق دونوں سے مدد کی ضرورت ہے تاکہ معاملات کو دیکھ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں