بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کے جے ایف-17 طیاروں کی برطانیہ کے ایئر شو میں تعیناتی
ہوا میں ایندھن بھرنے کے علاوہ فضائی رسائی کا مظاہرہ، مبصرین کی دلچسپی کا مرکز
جمعرات کو ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے جدید ترین جے ایف-17 تھنڈر بلاک-تھری لڑاکا طیارے برطانیہ میں رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو (آر آئی اے ٹی) کے لیے تعینات کر دیئے ہیں جو ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ ایک مختصر لیکن کشیدہ فوجی صورتِ حال کے بعد فضائی طاقت کا ایک اعلیٰ سطحی مظاہرہ ہے۔
یہ طیارہ آر آئی اے ٹی 2025 سے پہلے جنوبی انگلینڈ میں رائل ایئر فورس بیس فیئرفورڈ پر اترا۔ یہ ہوا بازی کے لیے دنیا کی سب سے بڑی اور باوقار ترین فوجی نمائشوں میں سے ایک ہے۔ ہر سال منعقد ہونے والی یہ تین روزہ نمائش تمام دنیا سے فضائی افواج کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور فضائی مظاہروں، ہوائی جہازوں کی نمائش اور فوجی سفارت کاری کے لیے ایک پلیٹ فارم پیش کرتی ہے۔
اس سال کے شو میں 60 سے زیادہ ممالک شریک ہیں اور اس کا موضوع "آسمان پر نگاہیں" ہے جس میں فضائی نگرانی اور عالمی سلامتی میں پیشرفت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
فوج کے میڈیا ادارے آئی ایس پی آر ایس نے ایک بیان میں کہا، "پاک فضائیہ کا دستہ جس میں جدید ترین جے ایف-17 تھنڈر بلاک-تھری لڑاکا طیارے اور سی-130 ہرکولیس ٹرانسپورٹ طیارے شامل ہیں، رائل ایئر فورس بیس فیئر فورڈ، برطانیہ میں رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو - 2025 میں شرکت کے لیے اتر گیا ہے۔"
نیز کہا گیا، "پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر بلاک-تھری کے لڑاکا طیاروں نے پی اے ایف کے فضا میں ایندھن بھرنے والے آئی ایل-78 ٹینکر کی مدد سے برطانیہ کے راستے میں ایندھن بھرنے کا عمل انجام دیا۔ یہ پیچیدہ عمل پی اے ایف کی طویل فاصلے تک کی آپریشنل صلاحیتوں اور اس کے فضائی اور زمینی عملے کی قومی سرحدوں سے باہر توسیعی کارروائی کی مہارت کا مظاہرہ ہے۔"
جے ایف-17 بلاک-تھری 4.5 جنریشن کا ایک کثیر العمل لڑاکا طیارہ ہے جو اے ای ایس اے ریڈار اور طویل فاصلے سے بصری حد سے باہر (بی وی آر) میزائل کی صلاحیت سے مزین ہے۔ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ یہ طیارہ پاکستان کی فضائی طاقت کی حکمت عملی کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ تعیناتی پی اے ایف کی جدید کاری اور آپریشنل تیاری کو نمایاں کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ پاک بھارت تنازعے میں پاک فضائیہ نے کئی بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے تھے جس کے بعد بالخصوص دفاعی مبصرین اور ہوا بازی کے شوقین افراد نے جے ایف-17 کی آمد میں بہت زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا۔