پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بارشوں نے تباہی مچا دی

پی ڈی ایم اے نے جمعرات کو بتایا کہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلسل بارش کے باعث 63 اموات ہوئی ہیں جبکہ 290 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے جمعرات کو بتایا کہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلسل بارش کے باعث 63 اموات ہوئی ہیں جبکہ 290 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے 17 جولائی کو جاری ایک بیان کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث مرنے والوں کی تعداد 103 تک پہنچ گئی ہے جبکہ بارش کے باعث مختلف واقعات میں 393 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

مون سون بارشوں کا سلسلہ ملک بھر میں جاری ہے جبکہ اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں 16 جولائی کی رات سے مسلسل بارش جاری ہے۔

راولپنڈی کی کئی آبادیوں سے انخلا

اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ 15 گھنٹوں سے بارش جاری ہے، راولپنڈی میں اب تک 230 ملی میٹربارش ریکاڈ کی جا چکی ہے، چکلالہ کے مقام پر 188 ملی میٹر، بوکرا 160 اور گولڑا میں 150 ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی، شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، سڑکوں اور گلیوں میں سیلابی منظر پیش کرنے لگا۔

اسلام آباد ائیر پورٹ 110 ملی میٹر اور گولڑہ میں 100 ملی میٹر، زیرو پوائنٹ پر 84، سید پور میں 82، کچہری کے مقام پر 133، پیر ودھائی 102 ملی میٹر اور کٹاریاں 92 میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

راولپنڈی میں مسلسل بارش کے باعث نالہ لئی نیو کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 17 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 18 فٹ تک پہنچ گئی، نالہ لئی میں پانی کا خطرناک حد لیول 20 فٹ ہے، نالہ لئی میں صرف دو فٹ پانی کی گنجائش باقی ہے۔

نالہ لئی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں جبکہ پاک فوج نالہ لئی کی صورتحال کا جائزہ لینے گوالمنڈی پل پہنچ گئی، نالہ لئی کے اطراف کی مساجد سے اعلانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

راولپنڈی کنٹونمنٹ اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے نالہ کی صفائی نہ ہونے پر بارشی پانی گھروں میں داخل ہو گیا، بحریہ ٹاون فیز 8 میں نالے کا پانی سڑکوں پر آ گیا، راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارشوں سے موٹروے بھی زیر آب آگئی، موٹر وے پر موجود شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

چکوال میں کلاوڈ برسٹ

پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چکوال میں ریکارڈ بارش کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ ایک بیان میں پی ڈی ایم نے بتایا کہ شدید بارش کے باعث سیلابی ریلے میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن میں پاکستان فوج کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو آپریشن میں پاکستان فوج کے ہیلی کاپٹر سمیت تمام ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان فوج کے اہلکار اور ریسکیو ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔

پنجاب ریسکیو آپریشن جاری

پنجاب میں بارشوں کے باعث ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں مختلف مقامات پر ریسکیو آپریشن جار

ی ہے۔

ریسکیو 1122 کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق ڈھوک شاہ عارف، سوہاوہ، ڈھوک بدر، رسول پور، چک محمدہ، بھمپر ولیج میں چھ کشتیوں اور 50 سے زائد اہلکاروں کی مدد سے آپریشن جاری ہے۔

ریسکیو ترجمان نے بتایا ہے کہ جہلم فلیش فلڈ سے 57 لوگوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ میانولی، راولپنڈی، چکوال، اٹک، ڈی جی خان، رحیم یار خان، راجن پور، لیہ میں بھی ریسکیو ٹیمیں آپریشن میں مصروف ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں 800 سے زائد ریسکیو بوٹس، 15000 ریسکیو اہلکار مون سون اور فلڈ آپریشن کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں