دفترِ خارجہ پاکستان کے نئے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعہ کو کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے آئندہ ہفتے سعودی عرب کے دورے میں اقتصادی سرمایہ کاری کے فروغ، موجودہ منصوبوں کو حتمی شکل دینے اور مستقبل میں تعاون کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے پر توجہ دی جائے گی۔
شہباز شریف نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو (ایف آئی آئی) کانفرنس میں شرکت کے لیے 27 سے 30 اکتوبر تک ریاض جائیں گے۔ یہ منصوبہ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے 2017 میں شروع کیا تھا۔
سرمایہ کاری کے مواقع اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور گرین فنانس جیسی جدید ٹیکنالوجیز دریافت کرنے کے لیے عالمی قائدین، سرمایہ کار اور اختراع کار اس فورم پر مجتمع ہوتے ہیں۔
اندرابی نے اپنی پہلی میڈیا بریفنگ میں کہا، "سعودی عرب کے دورے میں اقتصادی سرمایہ کاری ایک اہم جزو ہے جس پر گفتگو ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے طے شدہ اور کام کردہ منصوبوں کو مزید ہموار کرنے کا باعث بنے گا اور مستقبل کے افق پر منصوبوں کے خطوط کو بھی ایک شکل دے گا۔"
کیا فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر شہباز شریف کے ہمراہ جائیں گے، اس کے جواب میں اندرابی نے لاعلمی ظاہر کی لیکن مزید کہا، "جوں جوں دورہ قریب آئے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ وزیرِ اعظم کے ساتھ کون ہے۔"
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے قریبی تعلقات رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں تعاون کو وسعت دینے کی کوشش کی گئی ہے جس میں بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دفاعی معاہدہ خصوصاً قابلِ ذکر ہے۔ وزیرِ اعظم کے دورۂ ریاض کے دوران 18 ستمبر کو اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں گذشتہ سال متعدد شعبوں میں 2.8 بلین ڈالر کی 34 مفاہمتی یادداشتیں شامل ہیں۔