پی آئی اے کا خلیجی ممالک کےلیےمزید پروازیں چلانے کاارادہ ہے:عارف حبیب کی عرب نیوز سے گفتگو
کرایوں میں بھی کمی کی خوشخبری بھی سنا دی
حال ہی میں نجی ادارے کو فروخت کردہ قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے نئی کاروباری حکمتِ عملی کے تحت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے لیے پروازیں بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ سالانہ آمدنی میں 7.5 فیصد اضافہ ہو، ادارے کے نئے مالک نے اس ہفتے کہا۔
علاوہ ازیں نئی انتظامیہ عالمی رسائی کو بہتر کرنے کے لیے مکہ، مدینہ اور دیگر مقامات کی مذہبی سیاحت پر توجہ مرکوز کرے گی۔
بولی کے ایک مسابقتی عمل کے بعد 23 دسمبر کو عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں ایک پاکستانی کنسورشیم نے 135 بلین روپے (482 ملین ڈالر) میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کیے۔ اس معاہدے میں ایئرلائن کی مالیت 180 بلین روپے (643 ملین ڈالر) رکھی گئی تھی۔
اس فروخت سے پاکستان کی ایک عظیم الشان کوشش کی عکاسی ہوتی ہے جو قرضوں میں ڈوبی ہوئی ائیرلائن کی اصلاح کے لیے عشروں میں پہلی بار ہوئی ہے۔ اس کے خسارے کی مد میں 784 بلین روپے (2.8 بلین ڈالر) سے زیادہ جمع ہو چکے تھے۔ حکومت نے کہا کہ اس کا مقصد عشروں سے جاری ریاستی مالی اعانت کے بیل آؤٹ کو ختم کرنا اور ایئرلائن کی بحالی میں معاونت کرنا ہے۔
عرب نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب نے کہا ہے کہ ان کا مقصد ہوائی کرایوں میں مزید کمی کر کے تقریباً 70 ملین پاکستانیوں کو پی آئی اے کی طرف راغب کرنا ہے جو دیگر مختلف ایئرلائنز کے ذریعے سالانہ سفر کرتے ہیں۔
حبیب نے پیر کو عرب نیوز کو بتایا، "یہ [جی سی سی] خطہ ہماری سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ ہم یقیناً پروازوں کی کثرت اور طیاروں کی تعداد بڑھانے اور اس خطے میں زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لحاظ سے ہم وہاں بہت زیادہ مواقع دیکھ رہے ہیں۔"
اس وقت سالانہ 40 لاکھ مسافروں کی سفری ضروریات پورا کرنے والی پی آئی اے کی نئی انتظامیہ کا مقصد مذہبی سیاحت سے فائدہ اٹھانا ہے جسے حبیب نے پاکستان اور شرقِ اوسط میں ایک ایسی منافع بخش "منڈی" قرار دیا جہاں صارفین کے پاس کوئی اور متبادل نہ ہو۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق ایئرلائن شرقِ اوسط کے لیے روزانہ تقریباً 20 پروازیں چلاتی ہے۔
عارف حبیب پی آئی اے میں تقریباً 112 بلین روپے (400 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایئرلائن کو دوبارہ منافع بخش بنا سکیں۔ اس کے لیے وہ مختصر اور طویل مدتی اصلاحات نافذ کریں گے جن میں نشستوں کو بہتر کرنے سے لے کر 19 طیاروں کے بیڑے کو تین گنا کرنا اور ایک غیر ملکی ایئرلائن کو تکنیکی شراکت دار کے طور پر مشغول کرنا شامل ہے جس میں ایک تزویری حکمتِ عملی کے تحت اگلے سات سے آٹھ سالوں میں ادارے کے کچھ حصص یا اثاثہ جات فروخت کر دیئے جائیں گے۔
یہ گروپ پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ پاکستان کے کم آمدنی والے مسافروں کے لیے ہوائی سفر مزید ارزاں ہو۔
حبیب نے کہا، "جی ہاں، ہمیں مشورہ دیا گیا ہے کہ اپنے مارکیٹ شیئر میں اضافے کے لیے ہمیں ہوائی کرایوں کو معقول بنانا ہو گا۔ یہ ہمارے منصوبے کا حصہ ہے اور جب یہ ہو گا تو ہم اسے سامنے لائیں گے۔"
نئے مالکان نے ایک عالمی مشاوتی ادارے Seabury Aviation Partners کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ نئی خرید کردہ ایئرلائن کے لیے قابلِ عمل منڈیوں کی نشاندہی اور مقامی و بین الاقوامی سطح پر اس کی موجودگی میں اضافہ ہو۔
حبیب کا مقصد پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کے لیے اس کے آپریشنل ریونیو میں 7.5 فیصد سالانہ اضافہ کرنا ہے اور نئی انتظامیہ اس مقصد کے لیے یورپی اور شمالی امریکہ کی مارکیٹوں خاص طور پر برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا آنے جانے والے فضائی راستوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا، "برطانیہ سب سے زیادہ منافع بخش مارکیٹ ہے جہاں میرے خیال میں بہت زیادہ طلب ہے حتیٰ کہ امریکہ کے لئے بھی،" نیز کہا کہ وہ مزید سفری منازل بھی تلاش کریں گے۔
تاہم حبیب نے کہا ہے کہ ایئرلائن کو اپنے سرمایہ کاروں کو "معقول" منافع فراہم کرنے میں وقت لگے گا بشمول اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی، سٹی سکولز، لیک سٹی ہولڈنگز اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی۔ آخر الذکر پاکستانی فوج کی ملکیتی عوامی طور پر درج کردہ فرم ہے۔
"ایک سے دو سال کی ابتدائی مدت میں شاید ہمیں کچھ نقصانات ہوں لیکن درمیانی مدت میں میرے خیال میں یہ صورتِ حال بدل جائے گی،" انہوں نے نتیجہ اخذ کیا۔
ستمبر میں رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی اے نے جنوری تا جون 2025 کی مدت کے لیے 11.5 بلین روپے (41 ملین ڈالر) کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا جو تقریباً دو عشروں میں اسی مدت کے لیے پہلا ایسا منافع ہے۔ ایئرلائن نے 2024 میں اسی مدت کے دوران نقصانات ریکارڈ کیے تھے۔
ایک زمانے میں پی آئی اے ایشیا کی ایک معروف مسافر بردار کمپنی تھی جسے حالیہ سالوں میں دائمی بدانتظامی، سیاسی مداخلت، زائد ملازمین، بڑھتے ہوئے قرضوں اور آپریشنل مسائل کے ساتھ جدوجہد کرنا پڑی جس کے باعث پائلٹ لائسنسنگ سکینڈل کے بعد 2020 میں یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ کے لیے اس کی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے بعد سے یورپی یونین اور برطانیہ نے پابندیاں ہٹا دی ہیں جس سے ایئرلائن کو ایک نیا حوصلہ ملا ہے جبکہ امریکی پابندی ہنوز برقرار ہے۔
منگل کو پی آئی اے نے اعلان کیا کہ ایئرلائن برطانیہ کے لیے سفری خدمات میں اضافہ کر رہی ہے اور 29 مارچ سے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار چار پروازیں چلائے گی۔
پی آئی اے کے ترجمان خان نے ایک بیان میں کہا، "چھے سال کے طویل وقفے کے بعد پروازیں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔ پی آئی اے پہلے ہی مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلا رہی ہے۔"
-
بھارت:مسیحیوں اورمسلمانوں کےخلاف حالیہ پرتشدد واقعات پرپاکستانی دفترخارجہ کااظہارتشویش
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت میں حالیہ دنوں میں مسیحی عوام کے گرجا ...
بين الاقوامى -
پاکستان کے علماء کا کابل کے بارے میں مثبت اظہارخیال قابل تعریف ہے:افغان وزیر خارجہ
افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور دینی ...
بين الاقوامى -
پاکستان نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا
یو این میں پاکستانی نائب مندوب عثمان جدون نے سکیورٹی کونسل میں خطاب میں فلسطینی ...
پاكستان