امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کے دوران جن میں پاکستان اور مصر شامل تھے، ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ہدفی فہرست سے نکال دیا۔
بعد ازاں پاکستان نے واشنگٹن سے درخواست کی کہ انہیں نشانہ نہ بنایا جائے۔اس عہدیدار نے جمعرات کو مزید کہا: اسرائیلیوں کے پاس ان دونوں کے جغرافیائی معلومات(لوکیشن) موجود تھیں اور وہ انہیں ہلاک کرنا چاہتے تھے، لیکن ہم نے امریکہ کو کہا کہ اگر ان دونوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تو بات کرنے کے لیے کوئی باقی نہیں بچے گا۔
امریکی درخواست
عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکہ نے اسرائیلیوں سے پیچھے ہٹنے کی درخواست کی، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
یہ معلومات اس کے بعد سامنے آئیں جب عراقچی نے گزشتہ شب باضابطہ ٹی وی پر اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مزید کہا کہ ایران کی پالیسی ''مزاحمت جاری رکھنے'' کی ہے۔اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے وجود کی تردید کی۔
انہوں نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ جنگ کو اپنی شرائط پر ختم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ دوبارہ نہ دہرائی جائے۔
مزید کہا کہ مذاکرات کی بات کرنا ناکامی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، جو ٹرمپ کی بار بار کی اس نوعیت کی بیانات کی عکاسی کرتا ہے۔
5 شرائط
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کل بتایا تھا کہ ایران نے امریکہ کی جنگ ختم کرنے کی تجویز کردہ امن منصوبہ کو مسترد کر دیا، جو تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا،یہ پہلا ایرانی اعتراف تھا کہ مذاکرات ہوئے ہیں۔
عہدیدار نے کہا: تہران کا امریکی تجویز پر ردعمل منفی تھا، مزید کہا: جنگ اس وقت ختم ہوگی، جب ہماری حکومت فیصلہ کرے، نہ کہ جب ٹرمپ کرے، جیسا کہ ایران کے سرکاری ٹی وی کی انگریزی شاخ پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے تنازعہ ختم کرنے کے لیے پانچ شرائط رکھی ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہیں:
مستقبل میں کسی حملے سے محفوظ رہنے کی ضمانت۔
جنگ کے نقصانات کے لیے مالی معاوضہ حاصل کرنا۔
یہ ایرانی ردعمل اس کے بعد آیا ،جب اسلام آباد کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان نے تہران کو امریکہ کی 15 نکاتی منصوبہ منتقل کیا، جو 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ بحری راستے بھی زیر بحث ہیں، جبکہ ایران عملی طور پر ابنائے ہرمز کو حملوں اور دھمکیوں کے ذریعے بند کیے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈیاں متاثر ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
اس دوران وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور دھمکی دی کہ اگر ایران جنگ ختم کرنے والے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا تو'' اس پر دوزخ کے دروازے کھول دیے جائیں گی ''۔
واضح رہے کہ جنگ کے پہلے دن اسرائیلی-امریکی مشترکہ حملوں نے ایرانی دارالحکومت میں مرشد علی خامنہ ای سمیت کئی سینئر فوجی اور سیاسی قائدین کو ہلاک کر دیا تھا۔
تل ابیب نے نئے مرشد مجتبی خامنہ ای اور ایران کے دیگر سینئر قائدین کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔