حکومت سے مذاکرات کامیاب، کوئٹہ میں مقتول پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کا دھرنا ختم

حکومت نے حالیہ حملوں کی تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بلوچستان میں رواں ماہ دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک شدہ 27 پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے آٹھ نکاتی معاہدہ طے پا جانے کے بعد دھرنا ختم کر دیا جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کئی دنوں سے جاری تھا۔ خطے میں حالیہ مہلک حملوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل بھی مذکورہ معاہدے میں شامل ہے، ایک صوبائی وزیر نے ہفتے کے روز بتایا۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں نے چھے جولائی کو بلوچستان کے علاقے زیارت میں زیرِ تعمیر مانگی ڈیم پر ایک پولیس چوکی پر حملہ کر کے نو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے 18 دیگر پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا جو بعد میں مردہ پائے گئے۔ حکام نے بتایا کہ اس واقعے پر سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد پندرہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

یہ حملہ بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت اور لسبیلہ اضلاع میں ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کے مربوط حملوں کا حصہ تھا۔ طویل عرصے سے جاری علیحدگی پسند شورش کے حامل صوبے میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی میں شدت آئی ہے۔ ٹی ٹی پی جیسے مذہبی دہشت گرد گروپوں کی بھی خطے میں موجودگی برقرار ہے۔

مقتول پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ آٹھ جولائی سے کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک میں مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دیے ہوئے تھے تاکہ حملے کے وقت حکام کی مبینہ غفلت اور مانگی ڈیم پر کمک بھیجنے میں تاخیر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں شامل بلوچستان کے وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے عرب نیوز کو بتایا، "صوبائی حکومت نے مظاہرین کے زیادہ تر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جس کے بعد وہ دھرنا ختم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔"

نیز کہا، "واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے گا۔ چونکہ پہلے سے فوجی آپریشن جاری ہے تو حکومت علاقے میں گشت بھی بڑھا دے گی۔"

حملوں کی شدت کے باعث پاکستانی فوج نے پانچ جولائی کو دہشت گردوں کے خلاف 'آپریشن شعبان' شروع کیا۔ تب سے جاری جارحانہ اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں کم از کم 129 عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کے دوران مظاہرین کی نمائندگی کرنے والے ایک سینئر سیاست دان عبدالرحیم زیارتوال نے کہا، بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال "اطمینان بخش نہیں ہے" اور ہمارے مطالبات کی پورے صوبے کے لوگ تائید کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمارے بعض مطالبات پر حکومت نے لیویز فورس کی بحالی پر بات کرنے کے لیے کُل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا اعلان کیا ہے۔"

مقتول پولیس اہلکاروں کی تدفین کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا، انہیں ہفتہ کو اجتماعی نمازِ جنازہ کے بعد زیارت میں ان کے اپنے گاؤں میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

رواں ماہ بلوچستان میں مہلک حملوں میں درجنوں شہری، پولیس اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں جس کا الزام گذشتہ ہفتے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے "مشرقی ہمسایہ ملک" پر عائد کیا تھا۔

اسلام آباد اکثر ہندوستان اور افغانستان پر خطے میں حملے کرنے والے علیحدگی پسندوں اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ خطے میں چین بحیرۂ عرب پر گوادر میں ایک گہرے سمندر کی بندرگاہ بنا رہا ہے اور اس نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ دوسری طرف نئی دہلی اور کابل اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں