.

غزہ ۔۔۔ تاریخی پس منظر

سرور منیر راؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور بربریت کے اقدامات دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک ایک طرف تو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف در پردہ کھلے عام اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی دوہرے معیار کے مطابق قراردایں پاس کر رہی ہے لیکن عملاً بڑی طاقتوں کا کلب بن چکی ہے۔

غزہ کے علاقے میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزار ہا زخمی ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ عالم اسلام کی قیادت اپنے تمام تر وسائل کے باوجود مغربی استعماریت، امریکی جارحیت اور اسرائیلی بربریت کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کر سکی۔ اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم بھی ایک غیر فعال ادارہ بن چکی ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ غزہ شہر اور اس کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے کچھ حقائق پیش خدمت ہیں۔

غزہ کا قدیم اور تاریخی شہر اسرائیل اور مصر کی سرحد پر Mediterranean Sea کے تنگ ساحلی علاقے کی پٹی پر واقع ہے۔ زمانہ قدیم سے غزہ شمالی افریقہ، عرب ممالک اور یورپ کے درمیان اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ غزہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب مضبوط "Strong" ہے۔ قدیم مصری زمانے میں غزہ کو "انعامات کا شہر" کہا جاتا تھا۔ حضرت محمد ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم کی قبر مبارک بھی غزہ ہی میں ہے۔ اسی نسبت سے غزہ کو "غزہ ہاشم" بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں غزہ کو اسلامی سلطنت میں شامل کیا گیا۔ اموی اور عباسی دور میں بھی غزہ کو اسلامی سلطنت میں اہم انتظامی حیثیت حاصل رہی۔ سکندر اعظم نے بھی پانچ سال تک غزہ کو اپنے قبضے میں رکھا۔

غزہ کا شہر دو حصوں میں تقسیم ہے اور اس کی آبادی تقریباً چار لاکھ اسی ہزار ہے۔ ایک حصے کو عیسائی کواٹر کہا جاتا ہے یہاں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے اور دوسرے حصے کو مسلم کواٹر کہا جاتا ہے یہاں مسلم اکثریت ہے۔ غزہ شہر میں سات تاریخی دروازے ہیں جن کے نام باب اقصان، باب درام، باب بہار، باب مرناص، باب بلادیا،باب خلیل اور باب المنتار ہیں۔

فقہ شافی کے بانی حضرت محمد ابن ادریس الشافی غزہ میں ہی پیدا ہوئے حضرت عمر کے دور میں غزہ میں ایک عظیم و شان مسجد تعمیر ہوئی جسے مسجد عمر کا نام دیا گیا۔ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے فاطمی حکمرانوں سے غزہ کا کنٹرول حاصل کیا۔ عیسائیوں نے اس عظیم مسجد کو چرچ بنا دیا۔ سن 1191 میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کو عبرت ناک شکست دے کر غزہ کو فتح کیا ۔

غزہ شہر کئی جنگوں کی وجہ سے بار بار تباہ و برباد ہوا یہاں کئی ہولناک زلزلے بھی آئے۔ سن 1224 میں غزہ شہر شدید زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہوا اور پھر نئے سرے سے آباد کیا گیا۔ اس زلزلے کے پانچ سال بعد ہلاکو خان نے اسے تاراج کیا۔ بعد میں یہ شہر دوبارہ آباد ہوا۔ سن 1903 اور 1914میں بھی یہاں ہولناک زلزلہ آیا۔

سن 1917 میں پہلی جنگ عظیم کے دوران عثمانی ترکوں نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد لیگ آف نیشنز نے غزہ کو برطانوی حاکمیت میں دے دیا۔ سن 1948 تک یہ علاقہ برطانوی علمداری میں رہا۔ سن 1949 میں غزہ کو مصر کی حکمرانی میں دیے دیا گیا۔ سن 1967 میں اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ سن 1979 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کی محدود خودمختار حیثیت کو تسلیم کر لیا گیا۔ ستمبر 1993 میں اوسلو معاہدے کے تحت جو اسرائیل اور PLO کے درمیان ہوا اسے فلسطین کا حصہ بنا دیا گیا۔ یاسر عرفات مرحوم نے غزہ کو اپنا صوبائی دارالحکومت قرار دیا۔ یہاں حماس نے 2006 کے انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کی۔

غزہ میں حماس کی یہ کامیابی اسرائیل اور مغربی دنیا کو ایک آنکھ نہ بھائی وہ ابتداء ہی سے اس کوشش میں تھے کہ کوئی بہانہ بنا کر غزہ پر حملہ آور ہوں اور حماس کی قوت کو ختم کر یں۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس غزہ اور مصر کے درمیان زیر زمین سرنگوں کے ذریعے اسلحہ حاصل کر رہا ہے اور اس نے ان راستوں اور سرنگوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے فلسطین اور غزہ کے اقتدار اعلیٰ اور حاکمیت کے خلاف جارحیت کر کے اپنی تاریخ کو دہرایا ہے۔ یہ بات اب کسی طرح بھی چھپی ہوئی نہیں ہے کہ عظیم تر اسرائیل کے قیام کے لیے امریکہ اور برطانیہ بتدریج ایسی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں جس کے تحت اسرائیل کے رقبے میں اضافہ کیا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو واحد عسکری طاقت کے طور پر حاوی کیا جا سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.