.

پاکستان کی ایٹمی برتری کا بھارتی اعتراف اور دھمکی

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحالت مجبوری بھارت نے پاکستان کی ایٹمی برتری تسلیم کرلی ہے، شیام کرن چیئرمین نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ نے 24/اپریل 2013ء کو اپنے خطاب میں پاکستان پر یہ الزام لگایا کہ پاکستان اپنے آپ کو فوری ردعمل (Tactical) ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے تاکہ ایٹمی جنگ کی سطح کو نیچے لے آئے اور دُنیا کسی ایٹمی جنگ سے خوفزدہ ہو کر الارم نہ بجانے دے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان مائع ایندھن سے ٹھوس ایندھن کے راستے پر چل پڑا ہے یعنی پلوٹونیم جو سبک رفتاری سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کئے جاسکتے ہیں اور یہ کہ اُن کی تعداد بڑھا دی ہے بلکہ اُن کی صف آرائی بھی کردی ہے اور یہ کہ چھوٹے ایٹمی ہتھیار کروز میزائل اور کم فاصلہ کے مار کرنے والے میزائلوں سے داغے جاسکتے ہیں۔ یہاں انہوں نے پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی میں سبقت اور تعداد کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت نے Cold Start جیسا ڈاکٹرائن بنایا جو پاکستان کے لئے مخصوص ہے کہ وہ لاہور، صادق آباد اور دوسرے علاقوں پر اچانک حملہ آور ہو کر قبضہ کر کے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے تو یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ بھارت کے اِس جارحانہ ڈاکٹرائن کا توڑ کرے ، سو اس نے کر لیا ہے۔ ہم نے روزنامہ ”جنگ“ کے کالموں میں کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کی موت کا ذکر بہت پہلے کر دیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف اسلحہ کے انبار لگانا چھوڑ دے اور پاکستان کو زیر کرنے کا خیال دل سے نکال دے مگر وہ پاکستان کو مسلسل دباوٴ کا شکار کرتا رہا ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی سازش اور اس میں عملی حصہ ڈالنا اور پھر 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کرنا پاکستان کو خوفزدہ کرکے اپنا مطیع بنانے کے عمل کا حصہ تھا۔ ”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق پاکستان نے 1983ء میں ایٹم بم بنا لیا تھا اور اس کا لیبارٹری میں تجربہ بھی کرلیا تھا، ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے باقاعدہ تحریری اطلاع جنرل ضیاء الحق کو 1984ء میں دی اور پھر سیاسی وجوہات کی بنا پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا مگر مغرب کو معلوم تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ اس لئے انہوں نے ”سرخ چاند تارا“ اور ”اسلامی بم“ کی اصطلاحات 1985ء میں استعمال کرنا شروع کردی تھی پھر بھارت کے لئے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے اگرچہ 11 مئی 1998ء کو 5 ایٹمی دھماکے کرکے انہوں نے پاکستان کو چیلنج کیا تھا کہ ابہام دور ہو کہ آیا پاکستان کے ایٹمی اسلحہ ہے بھی یا نہیں یا وہ صرف جھوٹی دھونس دے رہا ہے۔ چنانچہ 28 مئی 1998ء کو اُن کو جواب مل گیا اور اب وہ شاکی ہے کہ سرد جنگ کے دور کے امریکہ اور روس کے درمیان جو ایٹمی مسابقت چلی اِس طرح کی پاکستان بھارت کے ساتھ مسابقت کر رہا ہے اور کیوں نہ کرے شروعات بھارت نے کی اور ہمیں محکوم بنانے کا خواب دیکھا، اس پر یہی کہیں گے ”خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں“ شیام سرن نے مزید کہا کہ پاکستان چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا کر ایٹمی ناقابل برداشت جنگ کو قابل برداشت جنگ کی سطح پر لے آیا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے فرمایا کہ اُس کو یہ ضرورت 2 مئی 2011ء کے ایبٹ آباد کے واقعہ درپیش آنے کے بعد محسوس ہوئی کہ کہیں امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اٹھا کر نہ لے جائے اور یا ایٹمی اثاثوں کو بے اثر نہ کردے۔ یہ درست نہیں ہے امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان یہ کام بہت پہلے سے کررہا ہے اور اُس کو دُنیا کے ایک حصہ میں آزما بھی چکا ہے۔ اگرچہ وہ ہتھیار پورے طور پر ایٹمی نہیں تھے۔ اُن کو ایٹمی زدہ مادہ سے گزار کر کارکردگی کو بڑھا دیا گیا تھا۔ شیام سرن کو اب ہوش آیا ہے تو یہ اُن کی بے خبری کہا جاسکتا ہے۔ شیام سرن نے اعتراف کیا کہ پاکستان ایٹمی مواد کی مقدار کو بڑھانے میں انڈیا کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ اگرچہ اُن کی یہ بات ”لومڑی چال“ کے زمرے میں آتی ہے تاکہ وہ مغرب پر زور ڈالے کہ وہ پاکستان کو ایٹمی مواد بنانے سے روکے، جس پر جنیوا میں ہر سال ناکام مذاکرات ہوتے ہیں اس لئے کہ پاکستان ہی نہیں دوسرے ممالک بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں اگرچہ معاہدہ کی کوشش میں دراصل پاکستان کو ہدف پر رکھا ہوا ہے۔ اس لئے امریکہ اور مغرب نے پاکستان کو اس طرح کی ایٹمی قوت نہیں مانا جس طرح انہوں نے انڈیا کے ساتھ سول ایٹمی معاہدہ کرکے دُنیا کے ایٹمی گروپوں تک رسائی دی ہے تو اس پر پاکستان کو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا کہ دُنیا کی سمجھ میں آجائے کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت قبول نہ کرنا، درست بات نہیں ہے۔ یہ امتیاز ہے جنرل احسان الحق سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور سابق چیئرمین جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کہتے ہیں کہ یہ بات اب خواب ہوئی کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے کوئی اٹھا کر لے جائے گا یا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کردے گا۔

شیام سرن نے جہاں کچھ اعتراف کئے ہیں وہاں پاکستان کو دھمکی بھی دی ہے کہ کسی فوری ردعمل کے چھوٹے ہتھیار کا بھارت کیخلاف استعمال مکمل ایٹمی جنگ پر جا کر منتج ہوگا۔ ہم بھارت پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اسلئے کولڈ اسٹارٹ جیسے ڈاکٹرائن بناتا ہے۔ اگر انڈیا نے یہ ڈاکٹرائن پر عمل کیا تو چھوٹے ہتھیار کیوں استعمال نہیں ہوسکتے۔ بقول انکے پاکستان نے انڈیا پر روایتی ہتھیاروں میں برتری چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا کر ختم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا Strategic یا Tactical ہتھیاروں سے حملہ پاکستان کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوگا مگر ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تاہم انڈیا نے اب کوئی مہم جوئی کی تو پاکستان کا جواب بہت موثر ہوگا۔ شیام سرن جیسے اہم سرکاری افسر کا یہ بیان بھارت کی پالیسی ہی قرار پائے گی اور اُنکے خوف کا مظہر ہے یا دُنیا کی توجہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی قوت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ دُنیا اُس کو روکے مگر مغرب کو خاطر میں لاتے ہوئے بھی اپنے ایٹمی صلاحیت پر پاکستان کوئی سمجھوتہ کیلئے دستیاب نہیں ہے۔

امریکہ یا مغرب ہمیں ایٹمی قوت ہونے کا شرف قبولیت بخشیں یا نہ بخشیں امر واقعہ یہ ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ پاکستان کو اس پر مجبور کرے بطور قوم ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم اپنی بقاء کیلئے ہر ممکن امکان کو استعمال میں لائیں۔ شیام سرن نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایٹمی برتری کے علاوہ جہادی برتری بھی حاصل ہے مگر پھر وہ پاکستان کو دھمکی دینے پر آگے کہ ممبئی جیسے واقعے پر بھارت ردعمل کرے گا۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ ہم نہ ممبئی جیسا کوئی واقعہ کی منصوبہ سازی کررہے ہیں اور نہ ہی بھارت کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ ہے اگرچہ بھارت میں نکسل باغیوں کے ساتھ ساتھ 22 ریاستوں میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ کوئی اُسے استعمال کرسکتا ہے اور چین نے تو واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت کو 6 حصوں میں تقسیم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے تاہم پاکستان اپنے پڑوسیوں کیساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتا ہے مگر پڑوسی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مداخلت سے باز نہیں آرہا، اُس کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے کہ دوسرا اس پر ردعمل نہ کرے۔

بنگلادیش کو الگ کرکے بھارت نے اچھا نہیں کیا، بنگلا دیش بھارت کے لئے دردسر بن سکتا ہے۔ عملاً پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور میاں محمد نواز شریف نے برملا اس کا اظہار کیا ہے، بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے مگر وہاں سے ہچکچاہٹ ہے جس سے اُسکے منفی انداز کا پتہ چلتا ہے۔ شیام سرن نے خود پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار فضا جو میاں نوازشریف کے منتخب ہونے کے بعد پیدا ہوگئی تھی اُس کو برباد کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ وہ بھارت سے دوستی کا پیغام اپنے منتخب ہونے سے پہلے دے چکے تھے تو ایسا ہوتا ہے خیرسگالی کا جواب جو بھارت کے ایٹمی بورڈ کے مشیر نے 24/اپریل2013ء کو اپنے بیان میں دیا! وقت آگیا ہے کہ بھارت ایک اچھے پڑوسی کی طرح اپنے رویّے پر نظرثانی کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.