.

اب کون آئے گا پاکستان؟

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اب کون آئے گا پاکستان؟اپنے تو محفوظ کبھی تھے ہی نہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ دیدہ دلیری سے غیر ملکی بھی قتل کئے جارہے ہیں۔ ہمارا وطن اب نہتوں کا ملک رہا نہیں ہے ، یہاں بے بس ،لاچار اور غیر مسلح انسان بس ایک شکار ہیں اور بندوق والے شکاری۔نفرت اور جنون کی پوشاکیں پہنے آگ اُگلتے ہتھیاروں کے ساتھ یہ اچانک کہیں سے نمودار ہوکر خون بہاتے ہیں،بستیاں اُجاڑتے ہیں اور پھر اطمینان سے اپنے اپنے ویرانوں کو لوٹ جاتے ہیں۔قانون، انصاف، احتساب، یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر پہلے ہی کہیں پھینکے جا چکے ہیں اب یہاں انتقام، دہشت،خوف، من مانی اور سرکشی کا راج ہے۔آج کے بعد سے پاکستان کے کسی شہری کی یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے ساتھ حق تلفیوں پر آواز اُٹھاسکے۔ جب ہم اپنی سرزمین پر دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ”مہمانوں“ کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ہم دیگر ممالک میں ”مقیم مسلمانوں“ پر ظلم کے خلاف آوازِ احتجاج بلند کریں۔وہ10غیر ملکی سیاح تو پاکستان دیکھنے آئے تھے، اُس کے فطری حسن اور قدرتی جمال کو اپنی تاریخِ حیات کا ایک ورق بنانا چاہتے تھے، میرے پاک وطن کی ٹھنڈک میں گم ہوکر زندگی کے کچھ حسین پَل جینا چاہتے تھے اور شاید دنیا کو یہ بتا نا چاہتے تھے کہ تم یہاں ایک بار آؤ تو سہی یہ گولیوں اور گالیوں کی نہیں بلکہ فطرت کی دلکش بالیوں کی دھرتی ہے، یہاں شقاوت کے زہریلے اجگر نہیں بلکہ مثالی حیات کے مصدر پائے جاتے ہیں، یہاں نفرت سے ہونٹ سکیڑنے والے نہیں بلکہ پیار کی ندیوں کا رخ موڑنے والے استقبال کرتے ہیں۔

مگر ایسا تو کچھ نہ ہوا،لوہے سے لوہا نکلا اور گوشت کو چیرتا ہوا اعتماد کے ایک اَن دیکھے رشتے میں پیوست ہو گیا۔ جو سماعتیں رکھتے ہیں اُنہوں نے بھروسے کی آخری چیخ سن لی ہے، اب تو صرف ایک پُراسرار خاموشی ہی باقی بچی ہے، اِس کے علاوہ سب ہی کچھ ختم ہوچکاہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ خاکم بدہن میرا پاکستان آہستہ آہستہ مٹ رہاہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سمٹ رہا ہے ۔ہر بہترین شے،جذبہ،تعلق،احساس ہمارے درمیان سے سمیٹا جارہا ہے ۔سب سے پہلے برکت اُٹھائی گئی اور اب رحمت بھی اِتنی دُور ہے کہ مدھم دکھائی دے رہی ہے۔میں ایک مایوس انسان نہیں لیکن حقیقت پسند ہوں،طوفان کو معمول کی لہر اور آندھیوں کو خوشگوار ہواکہنے سے قاصر ہوں۔مناظر بیان کرنے والے راوی پر لازم ہے کہ وہ منظر تراشے نہیں بلکہ جو دیکھا ہے اُسی کو لفظوں کا جامہ پہنائے اور جو نظر آرہا ہے وہ اِتنا بھیانک ہے کہ بتاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔

ہمارے آباؤ اجداد قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تقسیمِ ہند کے اِس لئے حامی تھے کہ علیحدگی کے بعدآزادانہ اپنے مذہبی عقائد، ثقافت اور تہذیب و تمدن کی پرورش کرسکیں گے”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“ کے نعرے کا مقصد ہی یہی تھا کہ مسلمانوں کو اُس منزل کی جانب سفر کرنا ہے جہاں صرف مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ تمام مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والوں کو قانوناً آزادی حاصل ہو اور وہ بے فکر ہوکراحساسِ تحفظ کے ساتھ اپنی اپنی عبادت گاہوں کا رُخ کر سکیں۔ویسے ہی جیسے کبھی ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ادوار میں کیا کرتے تھے ۔مگر۔یہ خواب بس خواب ہی رہا …ہم پاکستان میں غیر مسلموں کی کیا حفاظت کرتے ہم تو یہاں اپنی مساجد،مدرسے،امام بارگاہیں اور مذہبی مراکز بھی بچانے سے قاصر ہیں،ہم کلیسا کے تحفظ کی کیا ذمہ داری اُٹھائیں گے جبکہ ہم اپنے جنازوں کے نمازی بچانے کے بھی اہل نہیں، ہم کیا کرسمس،ایسٹر،ہولی اور دیوالی کا احترام کریں گے جبکہ ہم محرم،ربیع الاول،رجب ،شعبان اور رمضان جیسے عظیم مہینوں کی حرمت کے دفاع کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں، یہاں اقلیت کیا محفوظ ہوگی جب اکثریت ہی نشانے پر ہے ۔زیادہ دُور نہیں جاتاصرف رجب المرجب سے ہی دیکھ لیجئے ، آگ،دھوئیں،لاشیں،بکھرے ہوئے اعضا اور جلتے ہوئے گھروں کے سوا آپ کو کچھ اور نظر ہی نہیں آئے گا، جس ماہ میں نیک اعمال کے بیج بونے تھے اُس میں ہم نے عداوت کے ہل سے خوں ریزی کی کاشت کاری کی تو پھر ظاہر ہے کہ شعبان المعظم میں وہی فصل لہلہائے گی جس کے بیج بوئے گئے تھے۔

لہٰذا یکم شعبان سے لے کر آج نجات کی آنے والی رات کی ساعتوں تک آہ و بکا، یتیموں کی چیخ و پکار، بیواؤں کے بین اور ماؤں کی جزع و فزع کے سواکچھ اور سنائی نہیں دے رہا۔یہ حشر کیاہے ہم نام نہاد مسلمانوں نے رجب اور شعبان کا۔اور کوئی برا نہ مانے ہم سب اِس میں شامل ہیں کیونکہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظالموں ہی میں سے ہے ۔سود کھانے والوں پر رحم نہیں کیا جاتاکیونکہ اُنہوں نے اپنی مرضی سے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کا اعلان کیا ہے ، سرکشوں پر غضب کے دروازے بند نہیں ہوتے کیونکہ وہ عمداً کی جانے والی خطاؤں کو جینے کا حق گردانتے ہیں ۔منحرفوں کو معاف نہیں کیا جاتاکیونکہ وہ پچھلوں پر لعن طعن کرتے ہوئے اپنے فہم کو انبیاء سے بھی (معاذ اللہ)بالا قرار دیتے ہیں۔ظالموں سے دردناک انجام کو دُور نہیں کیا جاتا کیونکہ اُن کے دلوں کی بیماری نے ہمیشہ اُن سے یہی کہلوایا کہ (معاذ اللہ) ہم نہیں بلکہ اسلام ہی ظالم ہے ۔جو مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے اُس کی ہر ایک شب میں عبادت کے لئے صحابہ بے چین و بے قرار رہتے تھے،مدینہ منورہ کے ہر گھر سے قرآن پاک سے مومنین کی سرگوشیوں کی باادب آوازیں ہواؤں کو بھی ٹھہر کر اُنہیں سننے پر مجبور کردیتی تھیں۔توحید کے پروانوں کی راتیں مساجد میں مصّلوں پر یا گھروں میں تلاوت کرتے گزرتی تھیں اور ایک ہم ہیں جنہوں نے شعبان المعظم کی اِن راتوں کو قتل و غارت ،ظلم و زیادتی اور دہشت گردی کے لئے مختص کر دیا ہے۔

ہمارے لئے اب یہ صرف دیگر مہینوں کی طرح بعض مہینے ہی تو ہیں۔ برکتیں نچھاور کرنے والے مالک نے اپنے غلاموں سے منہ پھیر لیا ہے اورغلاموں کی خودسری کا یہ عالم ہے کہ آقا کی ناراضی پر اُسے رو رو کر منانے کے لئے تیار ہونا تو کجا یہ تسلیم کرنے تک کو تیار نہیں کہ ہم نافرمان ہیں۔اور وہ اِس پر بھی عطا کئے جا رہا ہے، رزق بند کیا اور نا ہی نعمتیں محدود کیں، چاہتا اور چاہے تو شعبان المعظم کو ہمارے پاس آنے سے روک دے، یہ اُسی کا اختیار ہے کہ وہ رمضان المبارک کا راستہ بدل دے ، رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کے عشروں کو اپنے نافرمانوں کی نگاہوں سے اوجھل کردے مگرستّر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں کو چاہنے والاہمیں موقع دیئے جارہا ہے ،اشارے مل رہے ہیں کہ سجدوں میں گر جاؤ،اپنی راتوں کو سازشی منصوبوں میں غارت کرنے کے بجائے عبادتوں میں ڈوب کر سنوار لو۔میرے بندو! مجھے پکار لو، میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب،بہت قریب ہوں، تم نے اپنی جانوں پر جتنے ظلم کئے ہیں میں سب معاف کردوں گا…میری چاہت صرف اتنی ہے کہ تم اقرار کرلواور پھر دوبارہ اُس بری راہ پر چلنے سے انکار کردو۔میں ستّار ہوں،تمہارے سارے عیب چھپالوں گا ، ہر نگاہ میں تمہیں اچھا بنادوں گا، دنیا کا ہر آقا ،غلاموں کو اپنی خدمت کے لئے آواز دیتا ہے دیکھو میں تمہارا کتنا اچھا آقا ہوں کیونکہ درحقیقت میں ہی آقا ہوں جو تمہیں اپنے لئے نہیں تمہارے لئے بلا رہا ہے ۔میں بے نیاز ہوں،مجھے تمہاری عبادتوں کی حاجت نہیں،بے شک تمہارے سجدے میرے لئے ہیں مگر اِن سجدوں کے نتیجے میں انعامات تمہارے لئے ہیں،بے شک تمہارا جھکنا صرف میرے لئے ہے مگر یہ جھکنا ہی تو تمہیں اُٹھاتا ہے ۔سو چار کاندھوں پر اُٹھنے سے پہلے جھک جاؤ اور ایک مرتبہ میری بارگاہ میں سچے دل سے گڑگڑاؤ،میری رحمت،غضب پر غالب آجائے گی“۔یہ شعبانی ندائیں مسلسل جاری ہیں۔!!!!

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.