.

دو ریاستی حل سے متعلق مثبت طرزِ عمل

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ قریب قریب بہت عجیب لگ رہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے اعلان پر بہت منفی اور مایوس کن ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے حالانکہ اس کو ایک مثبت پیش رفت گردانا چاہیے تھا۔

یقیناً یہ دیکھنا بہت آسان ہے کہ بہت سے مبصرین نے اس بات چیت کے نتائج کے بارے میں کیوں بہت زیادہ جوش وخروش کا اظہار نہیں کیا ہے؟ اس کی وجہ برسوں کی مایوسی اور ناکام مذاکرات ہیں۔ اس پر مستزاد فلسطینی دھڑوں حماس اور فتح کے درمیان اختلافات ہیں۔ پھر یہ حقیقت ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کا منشور فلسطینی ریاست کو مسترد کرتا ہے۔

مایوسی کا سست آپشن

امن مذاکرات کے ناقدین کی جانب سے پیش کردہ نکات سے شاید کوئی اتفاق کرے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی ایک کم زور آپشن ہے۔ یہ بات کہنا آسان ہے کہ آرام سے بیٹھ جائیں اور امن بات چیت کو اس کے آغاز سے قبل ہی مسترد کردیا جائے۔ اب ان ناقدین سے حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس کوئی متبادل بھی ہے۔

فلسطینیوں کے داخلی سیاسی اختلافات، تباہ حال معیشت ، ان کے روایتی اتحادی اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور اسرائیل برسر زمین ڈکٹیٹ کرانے میں لگا ہوا ہے، ایسی صورت حال فلسطینیوں کے لیے خطرناک ہی ہوسکتی ہے۔

درحقیقت کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ امن مذاکرات پہلے ہی بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وقت کا مزید ضیاع تنازعے کے حل کے امکان ہی کو خطرے میں ڈال دے گا۔ وقت کا ضیاع یقیناً فلسطینیوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ امن مذاکرات کے ناقدین کو ایک سادہ حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ مذاکرات شاید کامیاب ہوجائیں یا امن کے حصول میں ناکام رہیں لیکن متبادل (ان مذاکرات میں نہیں ہیں) ناکامی کی ضمانت ہے۔

جہاں تک اس معاملے میں امریکا کی مداخلت کا تعلق ہے تو بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے مفاد میں کر رہا ہے۔ عرب بہار 2011ء کے بعد امریکی انتظامیہ کی اعتباریت داغدار ہے۔ شام کے بارے میں امریکا کی حکمت عملی سے متعلق بہت سوں کا کہنا ہے کہ وہ مناسب نہیں ہے۔ مصر میں امریکا کو برطرف صدر محمد مرسی کے حامی اور مخالفین دونوں ہی سازش کا حصہ سمجھتے ہیں۔

روس، یورپی یونین اور چین کے مشرق وسطیٰ میں اثر ونفوذ بڑھنے کے بعد اب امریکا کا وہاں زیادہ اثرورسوخ نہیں رہ گیا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما مصر میں فوج کی جانب سے منتخب صدر کی برطرفی کو ''فوجی انقلاب'' قرار دینے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں تا کہ مصر کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی سالانہ فوجی امداد میں کوئی رخنہ نہ آئے جبکہ اس دوران سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات مصر کی عبوری حکومت کو بارہ ارب ڈالرز کی امداد دے چکے ہیں۔

ڈاٹ والی لکیر پر نشان

ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے ممکنہ امن ڈیل سے امریکا کا امیج بحال ہوگا۔ اگر یہ درست بھی ہو اور امریکا امن بات چیت کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے استعمال بھی کرنا چاہتا ہو تو بڑی ڈیل کیا ہے؟ آخر کار جس چیز کی اہمیت ہوگی وہ یہ کہ فلسطینی اور اسرائیلی اس ڈاٹ والی لکیر پر دستخط کردیں اور نفرت، قبضے اور ناانصافی کے برسوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔

مزید برآں اگر شام اور مصر کے بارے میں امریکا کا موقف غیر واضح اور غیر مقبول ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ایک ایسے شعبے میں سلسلہ جنبانی سے گریز کرنا چاہیے جہاں وہ حقیقی طور پر پیش رفت نہیں کرسکتے ہیں۔

اگر کوئی درست بات ہے تو وہ یہ کہ اسرائیلی فلسطینی تنازعہ مشرق وسطیٰ کا ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کے بارے میں امریکا کو ایک طویل تجربہ ہے۔ امریکیوں نے سب سے پہلے سنہ 1948ء میں اسرائیل کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ امن عمل کے بہت سے تعاملات میں شریک رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں رہے۔ البتہ وہ متعدد مرتبہ ڈیل کرانے کے بہت قریب آ گئے تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل وقت گزاری کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یقیناً اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ آموس یادلین کا یہ تبصرہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ انھوں نے فروری میں غیرملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''ہمیں فلسطینیوں کو ایک تجویز پیش کرنا ہوگی، بہت شائستہ تجویز، ایک مناسب تجویز۔ اگر فلسطینی اس کو قبول کرلیتے ہیں تو امن کی فتح ہوگی۔ اگر وہ اس کو مسترد کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر کم سے کم ہم الزامی کھیل کو جیت جائیں گے۔اس کے بعد ہم فلسطینیوں کے متفق ہونے کا انتظار کیے بغیر اپنی سرحدوں کا ناک نقشہ بنا سکتے ہیں''۔

تاہم اسرائیل کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ اورعوام میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو امن چاہتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں اس کا جواز بھی بنتا ہے کیونکہ عرب دنیا میں ہر کہیں عدم استحکام موجود ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ فلسطین کے روایتی اتحادیوں کی اس طرف توجہ مرکوز نہیں ہے لیکن جہاں تک اسرائیل کا معاملہ ہے تو وہاں بھی غیر یقینی کی صورت حال موجود ہے کیونکہ 2011ء کے بعد سے اس کے آس پاس تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اسے اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ کم سے کم فلسطینی وہ دشمن ہیں جنھیں صہیونی جانتے ہیں۔

اسرائیل کے لیے اس بات کا بھی جواز بنتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کردے کیونکہ خطے میں اس کے اتحادی تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ قدامت پرست اور دائیں بازو کے نظریات کا حامل ہونے کے ناتے نیتن یاہو کے لیے داخلی طور پر یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ سخت گیر یہودی جماعت ہوم پارٹی کے ساتھ اتحاد ایک سیاسی ضرورت تھی اور اسرائیلی عوام مستقل حل کے بارے میں کوئی زیادہ خیال نہیں کرتے ہیں کیونکہ فوجی قبضہ اب تو پائیدار نظرآتا ہے۔

تاہم صورت حال جوں کی توں برقرار رہتی ہے تو یہ نیتن یاہو کے بین الاقوامی امیج کے لیے ضرر رساں ہوگی۔ امن مذاکرات کا وقت اور مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں کی مصنوعات پر یورپی یونین کی پابندیاں ایک ہی وقت میں عاید ہوئی ہیں لیکن یورپی یونین کی پابندیوں سے اس بات کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ اب عالمی رائے عامہ کی لہریں اسرائیل مخالف چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ وہ شاید مذاکرات کے عمل میں وقت گزاری کے لیے شریک ہوئے ہوں لیکن عالمی برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور وہ اس اسرائیلی رویے کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید برآں بہت سی چیزیں خطے میں فلسطینی ایشو کے ساتھ معلق ہیں اور اس نے اس کو ہرکسی کے لیے ایک مناسب وقت بنا دیا ہے۔ فلسطینی ایشو کو اکثر بشارالاسد جیسے عرب لیڈر اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ وہ خطے میں امریکا، اسرائیل کی عظیم سازش کی بات کر کے اپنی ناکامیوں سے دوسری جانب توجہ منعطف کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل، فلسطین مذاکرات کی کامیابی سے خطے کو مستحکم کرنے کے لیے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ہمیں یقینی طور پر کسی نتیجے تک آناً فاناً نہیں پہنچ جانا چاہیے۔ تینوں فریقوں کو اس وقت مذاکرات کرنے چاہئیں لیکن یہ مذاکرات بہت پہلے ہوجانے چاہئیں تھے۔ مشرق وسطیٰ کا امن عمل اکثر امن سے زیادہ عمل ہی ثابت ہوتا رہا ہے۔ اگر امن مذاکرات کی کامیابی کا معدوم سا امکان بھی حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو پھر کچھ لوگ یہ پیشین گوئی بھی کررہے ہوں گے کہ وہ سب کچھ جانتے تھے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ تاہم شمالی آئرلینڈ میں امن معاہدہ کرانے والے جارج میچل یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ امن کا راستہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل ناقابل پیشین گوئی ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا تھا: ''جب تک یہ رونما نہیں ہوا تھا، آپ یقین کے ساتھ اس کی پیشین گوئی نہیں کرسکتے تھے۔ آپ ایک جواب میں ناں کہہ سکتے ہیں لیکن آپ نے اس کو پنہاں رکھنا ہوتا ہے یہاں تک امن کے حصول میں کامیابی حاصل ہوجائے''۔

(ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.