کیوں۔۔۔؟؟؟؟

بشریٰ اعجاز
بشریٰ اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ہم پھنس چکے ہیں۔۔۔ بُری طرح پھنس چکے ہیں، اس جال کے اندر جسے وار آن ٹیرر کہا جاتا ہے۔۔۔ سچ کہیں، گیارہ سال قبل، جب یہ نحوست اس ملک میں داخل نہ ہوئی تھی، کیا یہ ملک اتنا کٹا پھٹا، بے بس اور بدحال تھا؟ کیا اُس وقت، کوئی مسجدوں اور کلیساؤں پر بم دھماکوں کے متعلق سوچ بھی سکتا تھا؟ کیا مقدس و محترم امام بارگاہوں، اور تعزیئے کے جلوسوں میں عزاداری کرنے والوں کو، جسم سے بم باندھ کر اُڑا دینے کا کوئی تصور بھی کر سکتا تھا؟ کیا کوئی جی ایچ کیو، نیوی بیس، واہ آرڈننس فیکٹری اور اس نوع کے دیگر اداروں پر دہشت گردی کا خیال بھی دل میں لا سکتا تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کے کراچی جلسے میں بم دھماکہ، محترمہ کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت، فوجی جنرلز، اور دیگر افسران پر دہشت گرد حملے۔۔۔ سوات میں مذہبی انتہاپسندوں یعنی طالبان کا اسلام آباد کے خلاف اعلانِ جنگ۔۔۔ سمیت، ہزاروں حادثات، ہزاروں تباہیاں، لاکھوں بے چینیاں ہیں، کون گنوا سکتا ہے بھلا اِس مختصر کالم کے اندر۔۔۔ کہ اس کے لئے تو کئی جلدوں پر مشتمل کتب درکار ہیں۔!

مجھے یاد ہے، جب میریٹ کے دروازے پر، خودکش بمبار کو آنے اور داخل ہونے سے روکنے پر، وہاں متعین گارڈ نے جان پر کھیل کر ہوٹل اور اس میں موجود لوگوں کو بچا لیا تھا۔۔۔ تو میں نے اس پر کالم ’’مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے‘‘ لکھا تھا، جسے ادارہ ہلالِ احمر نے سال کے بہترین کالم کا ایوارڈ دیا تھا۔۔۔ وہ بندوبستی علاقوں میں پہلی بڑی دہشت گردی کی واردات تھی۔۔۔ جو اک بہادر محافظ کی شجاعت نے ناکام بنا دی۔۔۔ اس کے بعد تو پھر جیسے سارے ہی بند دروازے کھل گئے، جن سے دہشت گردی کا سیلاب اندر داخل ہو گیا۔۔۔ جو، اب تک 50 ہزار معصوم پاکستانیوں کی جان لے چکا ہے۔۔۔ ان پاکستانیوں میں، ہر مکتب فکر، ہر طبقے، ہر عمر اور ہر مذہب کا انسان موجود ہے۔۔۔! انسان جسے خدا نے اس زمین پر اپنے نائب کی حیثیت دی ہے ۔۔۔ اور اپنے اس نائب کو اتنا قیمتی قرار دیا ہے کہ قرآن میں واضح اور صاف انداز میں مالکِ کائنات فرماتا ہے، ’’جس نے ایک شخص کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا‘‘۔۔۔ ہم پچھلے گیارہ برسوں میں، جتنی دفعہ وار آن ٹیرر کی مذمت کر چکے ہیں، کم و بیش اتنی ہی دفعہ، اس ارشادِ ربانی کو بھی دہرا چکے ہیں۔۔۔ مگر نہ تو اس سے وار آن ٹیرر کی شدت میں کمی آئی ہے۔۔۔ نہ انسان نے انسان کے جان و مال کی حرمت کا سبق سیکھا ہے، بلکہ یہ کہوں تو زیادہ صحیح ہو گا۔۔۔ کہ جیسے جیسے وار آن ٹیرر کی شدت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ اسی طرح انسان کے اندر کا جانور بھی۔۔۔ بے لگام و بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔!

مجھے یاد ہے ۔۔۔ جب مختاراں مائی پر زیادتی کا کیس سامنے آیا تھا، تو یہ سارا معاشرہ، اوپر سے لے کر نیچے تک مجسم احتجاج بن گیا تھا، یہاں تک کہ پرویز مشرف، اور شوکت عزیز کی گفتگو کا محور بھی، جنوبی پنجاب کی وہ معمولی اور بے کس عورت بن گئی تھی، جسے وڈیروں نے اپنے ظلم کی سان پر چڑھایا تھا۔۔۔ پھر ان آنکھوں نے اس ملک، اسی معاشرے میں اس بے نوا عورت کو مضبوط آواز بنتے دیکھا، ظلم کے خلاف اک ایسی دیوار کے مانند اٹھتے دیکھا، جس کے سائے میں، دیگر ایسی بے نوا و بے بس عورتیں، سستا سکتی تھیں۔۔۔ اب وہ دیوار کہا ں ہے؟؟ ننھی سنبل، ثمینہ، نوشہرہ ورکاں کی فائزہ اور صدف سمیت وہ تمام بچیاں ،جن کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے وہ پوچھتی ہیں۔ ایسی زیادتی کہ آسمان بھی پناہ مانگے اور زمین بھی دہائی دے۔ وہ بچیاں جن پر زندگی کے، امید کے، خوشی کے، اور عافیت کے دروازے، اس آدم خور، جانور معاشرے نے بند کر کے، انہیں، ذلتوں کے پاتالوں میں دھکیل دیا ہے، قبروں میں اتار دیا ہے، وہ اس وقت مجسم سوال ہیں۔ ننھی سنبل ، کو انصاف دلانے کے لئے بے چین و مضطرب شہباز شریف، ابھی تک اس کے مجرم نہیں ڈھونڈ سکا، تو ، ثمینہ، صدف، فائزہ۔۔۔ اور دیگر بچے بچیاں کس گنتی، کس شمار میں؟ کہ دیوار کی طرح ظلم کے سامنے کھڑی ہو جانے والی مختاراں مائی، خود اس وقت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔۔۔ جس کے پیچھے قانون بھی تھا، انصاف بھی۔۔۔ حاکم بھی۔۔۔ محکوم بھی۔۔۔ اور مغربی این جی اوز بھی۔۔۔ مگر انصاف تو اسے بھی نہ مل سکا؟ کیوں؟ کیوں؟۔۔۔ کیوں؟؟؟؟ اس معاشرے میں رہنے والا ہر صاحبِ دل انسان، اب ایک بڑا سا سوال نامہ بن چکا ہے۔۔۔جس کے ہر مسام پر کیوں۔۔۔ کی مہر لگی ہوئی ہے۔۔۔ ہیومن رائٹس کی اک چند سال پرانی رپورٹ کے مطابق۔۔۔ وار آن ٹیرر کے نتیجے میں، قبائلی علاقوں میں عورتوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔ یہ وہ واقعات ہیں، جن کی رپورٹنگ پولیس تھانوں میں ہوتی ہے، جو واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، ان کی تعداد زیادہ ہے۔!

سو قارئین ۔۔۔ وار آن ٹیرر کا یہ وہ پہلو ہے، جس پر ہم نے کسی فورم پر، کبھی سنجیدگی سے بات کرتے کسی کو نہیں سنا! حالانکہ علاوہ دیگر برائیوں اور نقصانات کے، دہشت گردی کے خلاف، اس سوکالڈ (Socalled) جنگ کا یہ پہلو نہایت خوفناک ہے۔۔۔ جس میں ہم بری طرح پھنس چکے ہیں ۔۔۔ ہزار طرح کی تباہیاں، ہزار طرح کی برائیاں ہمیں گھیرے ہیں ۔۔۔ جن سے اجتماعی اور انفرادی لحاظ سے یہاں رہنے والا ہر شخص کسی نہ کسی طرح متاثر ہے۔! اور رہا ملک تو، امریکہ کی تمام تر چاکری کے باوجود، وہ عالمی سطح پر، اس وقت ایسی تنہائی سے دوچار ہے، جو اس سے قبل، کبھی دکھائی نہیں دی! نہ ہمارا کوئی ہمسایہ ہم سے مخلص ہے، نہ ہی ہمارے آقا ہم سے خوش، کہ انہیں، اس خطے میں اپنے چہیتے اور لاڈلے، بھارت کے مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔۔۔ چاہے ہماری گردن پر پاؤں رکھ کر ہی! ان حالات میں، زمینی اور آسمانی آفتیں۔۔۔ سیلاب، زلزلے۔۔۔ معاشی بدحالی، حکمرانوں کی شخصی کمزوریاں۔۔۔ اخلاقی بے بسیاں۔۔۔ جن سے نہ تو قانون کی حالت سنور سکتی ہے، نہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی۔۔۔ جو نہ مہنگائی کو لگام ڈال سکتے ہیں۔۔۔ نہ ڈالر کو۔۔۔ جنہیں، ووٹ مانگنے کا ڈھنگ تو آتا ہے، مگر ووٹروں سے کئے گئے وعدے یاد نہیں رہتے۔۔۔ جو چار ماہ کی حکمرانی میں اب تک ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔ وہ اس ملک کو کیا چلائیں گے؟؟ وار آن ٹیرر کی آگ کیسے بجھائیں گے۔۔۔ کشکول توڑنے کے دعوے دار، خصوصی آرڈر پر نئے سائز کا بڑا اور مضبوط کشکول ہاتھ میں پکڑ کر، بھیک مشن سے، ملک کی معاشی، اقتصادی اور اخلاقی حالت درست کرنے کا جو پلان بنائے بیٹھے ہیں، کیا اس سے یہ ملک درست ہو جائے گا؟ انسانوں کی اخلاقی حالت،ان کے وعدوں سے درست ہو جائے گی؟ سنبل کو انصاف دلانے پر کمربستہ پنجاب انتظامیہ، اب تک، اس کے مجرموں تک نہ پہنچ سکی۔۔۔ تو کیا، وار آن ٹیرر کے نرخروں تک رسائی حاصل کرے گی؟؟ معاشرے میں بڑھتی ہوئی ابتری، کمزور انتظامیہ، بے بس و لاچار حکمران۔۔۔ اس سامان کے ساتھ، کیا ہم ان شیطانی طاقتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں، جو اس ملک میں اس وقت پوری طاقت پکڑ چکی ہیں۔۔۔ جنہوں نے اس ملک کی حالت، جاں بلب مریض کی سی بنا دی ہے؟؟

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں