.

کیا تم یہ سب کہہ سکو گی ملالہ؟

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اِس میں کوئی شک نہیں کہ سوات کی بہادر بیٹی کے ساتھ بدترین سلوک کا دردناک باب تاریخ کے صفحات سے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا اور یہ بھی درست ہے کہ اُس نے اپنے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی سے ظلم وجبر کے مکروہ چہرے پر ایک زناٹے دار طمانچا مارا ہے…

ایک لکھی پڑھی نہتی لڑکی پر اُجڈ، وحشی اور انسان نما درندوں کا مسلح حملہ’’مردانگی‘‘ کے دعوے داروں کو شرمسار کرنے کیلئے کافی ہے اور پھر دُعاؤں کے نتیجے میں اُسی لڑکی کا بچ جانا انسانیت کے دشمنوں کو یہ لِلّٰہی پیغام ہے کہ جس کے ساتھ اُس کا رب ہواُسے سرکشوں کی ایذا رسانیاں مِٹا نہیں سکتیں پھر چاہے کوئی وین میں گھس کر سر پہ گولی مارے یا اِسی جنونیت کاباربار اظہار کرے، بالفرض خون کے پیاسے کسی کو مار بھی ڈالیں لیکن اللہ اُسے شہید اُٹھاتا ہے اور یہ تو وہ موت ہے جس کی ہر زندہ کو تمنا ہے …
قاتل سمجھتا ہے کہ وہ کامیاب ہو گیا لیکن فرشتے اُس کی ناکامی پر افسوس کرتے ہیں کہ ایک ہی لمحے نے مارنے والے کو جہنم کی گھاٹیوں اور مرنے والے کو مغفرت کی چھایا میں پہنچا دیا، ہو سکتا تھا کہ بہادر ملالہ مزید سانسیں نہ لے پاتی یا یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ’’نفرت گروں‘‘ کے اِس ستم کی تاب نہ لاکر عمر بھر کے لئے مفلوج ہوجاتی مگر یہ تو ہم جیسے محدود نظر ہی سوچ سکتے ہیں پَر جس کی نگاہ میں پوری کائنات ہو اور جوکُل مختار،واحد مالک اور اکیلا خالق ہو اُس کے حکم سے قلم نے تقدیر کے پرچے پر کیا لکھا ، کب لکھا اور کیوں لکھا اِس کا علم ’’علیم(جَلَّ جَلاَ لُہُ)‘‘ کے سوا کسی کو نہیں، سو اِسی سبب ملالہ بچ گئی، زندگی نے اسپتال کے بستر پر اُس کا دوبارہ دیدار کیا اور وحدہ لاشریک کے حکم سے سانسوں نے اُسے پھر اپنالیا،وہ صحت یاب ہوگئی، چلنے پھرنے لگی، سب کو پہچان بھی لیا اور کچھ ہی عرصے بعدوہ پہلے جیسی ہو گئی، وہی ملالہ جو سوات کے اسکولوں میں علم کی شمع تھامے اُجالے بکھیرا کرتی تھی، اللہ نے اُسے ایک نئی زندگی ہی نہیں دی بلکہ اُس کے والدین اور بھائی کو بھی ’’حفاظت کے حصار‘‘ میں اُسی کے ساتھ رکھا، ملالہ کے سر پہ لگنے والی ایک گولی نے بُہتوں کی حیات کو نئے معنی فراہم کردئیے والد نے ماشاء اللہ ہائی کمیشن میں ملازمت حاصل کرلی، بھائی بھی اعلیٰ تعلیم کیلئے کوشاں ہے، وین میں اُس کے ساتھ موجود اُس کی دو سہیلیاں بھی برطانیہ جا چکی ہیں، ادارئیے، کتابیں، ایوارڈز، تمغے، ستارے، نشانات، انعامات، اعزازات، استقبالئے، شہرت، دولت سب ہی کچھ اُس کے تعاقب میں ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اِن سے ’’بھاگ‘‘ نہیں رہی بلکہ اِن ’’سُریلے راگوں‘‘ سے آہستہ آہستہ ’’جاگ‘‘ رہی ہے …

میں اِس وقت مکۃ المکرمہ کی جانب عازمِ سفر ہوں تاکہ ایک سچے غلام کی طرح اپنے مالک کو یوں پکار سکوں کہ ’’حاضر ہوں! اے اللہ میں حاضر ہوں‘‘ اِس لئے نہیں جانتا کہ دنیا میں ’’بے امنی پھیلانے والوں‘‘ کی جانب سے امن کے نوبل انعام کا اعلان ہوا یا نہیں مگر غالباً اِن سطور کی اشاعت تک اُسے ’’نوبل انعام‘‘ کا مستحق بھی قرار دے دیا جائے…اچھاہے … یقینا بہت اچھا ہے … سب ہی کچھ اچھا ہے … مجھے تو اِس لئے بھی زیادہ خوش ہونا چاہئے کہ پاکستانی میڈیا میں، یہ بندۂ عاجز وہ واحد شخص تھا جس نے اِس حملے کے بعد ملٹری اسپتال کے باہر سے بہادر ملالہ کیلئے سب سے پہلے دعائیہ پروگرام کیا اور پوری قوم نے ایک ساتھ پیاری ملالہ کی صحت اور تندرستی کے لئے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں…

اسپتال کے باہر ننھے بچوں نے علم کی مشعلیں جلا کراسپتال کے اندر موت سے لڑتی ملالہ کو یہ روحانی پیغام دیا کہ ’’تم اِس راہ پر اکیلی نہیں ہم سب ملالہ بننے کیلئے تیار ہیں‘‘…اُسی دوران اندھیروں کے سوداگروں نے مجھے جان سے ماردینے کی دھمکی دی جو میں نے اُسی وقت ناظرین کو یہ کہتے ہوئے بتادی کہ’’میں یہیں پر موجود ہوں، ملالہ کیلئے دعا کر رہا ہوں، آؤ اور مجھے مار سکتے ہو تو مار دو‘‘ … مگر … میں آج ملالہ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ’’غیروں‘‘ کی اِس کُھلی پذیرائی نے کیا تمہیں ایک بار بھی چونکنے پر آمادہ نہیں کیا؟تم کون ہو ملالہ؟ ایک ’’مسلمان لڑکی‘‘…دنیا میں کوئی بھی تمہیں ’’لڑکی مسلمان‘‘ نہیں کہے گا بلکہ ’’مسلمان لڑکی‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کیا جائے گاسو اِس طرح ’’مسلمان‘‘ پہلے آتا ہے اور ’’لڑکی‘‘ بعد میں، تو پھر تمہیں حیرت نہیں ہوتی کہ ایک ’’مسلمان‘‘ پر یہ’’اَن گنت مہربانیاں‘‘کیونکر؟

قرآن تو کہتا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ تم سے اُس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ تم اُن کی ملت کا حصہ نہ بن جاؤ‘‘…تم یقینا نہیں بنیں لیکن اُنہوں نے ’’بَنالیا‘‘،ایک ’’مسلمان لڑکی‘‘ کو تو نوبل انعام دینے کیلئے پورا عالم تیار ہے لیکن اُسی مسلمان لڑکی کے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (معاذ اللہ) توہین سے یہ امن کے خود ساختہ ٹھیکیدار باز بھی نہیں آتے، اِن کی بنائی ہوئی شدادی دنیا میں ختمی مرتبت، اُن کے صحابہ اور اہل بیت اطہار کے لئے کوئی گنجائش نہیں، اِنہوں نے امن کے سب سے بڑ ے پیامبر، سراپا رحمت اور انبیا کے امام کی (معاذ اللہ) تضحیک کیلئے سیکڑوں ویب سائٹس اور صفحات تخلیق کر رکھے ہیں لیکن تمہاری حمایت میں بلاگز لکھوائے جا رہے ہیں، صفحات چھاپے جا رہے ہیں، تمہیں علم اور امن کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، کیا یہ سب تمہیں اچھا لگ رہا ہے؟ ملالہ بیٹی ! تم ہی بتاؤ کہ جب علم کے شہر کے خاکے بنائے جائیں،امن کی’’ لاشریک علامت‘‘ کے سینہ اطہر پراُترے قرآن کو جلایا جائے اور سورۃ قلم والے قلم کے سچے امین کی شان میں جہلا کے قلم زہر اگلیں تو تمہیں کیا کرنا چاہیے؟

میں نے اور مجھ جیسے لاکھوں پاکستانیوں نے تم پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اِس لئے آواز بَلندنہیں کی تھی کہ ہم برطانیہ سے میڈیا کے دوش پر اغیار کے لہجے میں تمہارا یہ انداز گوارا کریں گے کہ ’’میں سیاست میں آنا چاہتی ہوں‘‘، بھول گئیں کہ تمہیں سیاست سے بچانے کیلئے ہی تو سب آگے بڑھے تھے،کون سی سیاست؟ کس کی سیاست؟ کیا تعلیم سے وابستہ تمہاری ساری ذمہ داریاں پوری ہوگئیں؟یہ ساری تکالیف کیا تم نے اِسی دن کیلئے اُٹھائی تھیں؟

بیٹی! یہ سب تم نہیں کہہ رہی ہو تم سے کہلوایا جارہا ہے، ہمدردی ،سہارے اور چکاچوند سے تمہیں بہکایا جارہا ہے، تم اپنا راستہ نہ چھوڑو، تم نے اِتنا درد صرف علم کیلئے برداشت کیا ہے ،اب اِسے کسی نئی جنگ کا سبب نہ بننے دو…نوبل انعام دینے والوں سے ایک بار تو پوچھ لو کہ ’’میرے نبی کیلئے آپ کے دل میں کیا ہے؟

اگر آپ اُن کا احترام کرتے ہیں،اور فتنوں کے خاتمے کیلئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ انبیا کی توہین کر نے والا بھی ایسا ہی مجرم قرار پائے گا جس طرح ہم سب کی نگاہ میں اللہ کی زمین پر فساد پھیلانے والے مجرم ہیں تو میں یہ انعام چوم کر لوں گی مگر میرے لئے معیار کچھ اور اور میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے احترام کے زاویئے جُدا؟… تو پھر مجھے بھی ’’اظہارِ رائے‘‘ کی آزادی دیجئے اور یہ کہنے دیجئے کہ ’’کسی بھی کھرے مسلمان کے لئے دنیا کا کوئی بھی اعزاز اُس کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور ناموس سے بڑھ کر نہیں، ہماری تو عزت ہی اُن کے سبب سے ہے ، اجی عزت کی بات تو رہنے دیجئے اللہ کی قسم! رگوں میں یہ لہو بھی اُن ہی کی بدولت ہے ، یہ سب تمغے یہیں رہ جائیں گے ، سارے ایوارڈ شیشے کے پیچھے سجے رہ جائیں گے، قبر میں ساتھ تو صرف اُن کی غلامی کا اعزاز جائے گا میں یقینا جرأت مند ہوں مگر اِتنی بے ادب نہیں کہ اِس دائمی اعزاز سے منہ موڑنے کی جرأت کروں، مجھے آپ کا نوبل انعام قبول ہے، آپ کی تمام باتیں بھلی ہیں اور نیت پر بھی کوئی سوال نہیں…

بس صرف اِتنا کہہ دیجئے کہ آپ کو میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار ہے، ہم نے تاریکیوں کو دُور کرنے کی قسم کھائی ہے نا! تو چلئے آج مل کر اُسی شمع کو تھام لیتے ہیں جس سے ظلمت دور بھاگتی ہے اور روشنیاں زیارت کو بے تاب ہوجاتی ہیں،آپ میرے نبی کی تکریم کا اقرار کیجئے، میں آپ کے ایوارڈز کی تعظیم کا وعدہ کرتی ہوں‘‘…کیا تم یہ سب کہہ سکو گی ملالہ؟؟؟؟…!!!

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.