غزہ میں تشدد کا سلسلہ کب تھمے گا؟

خالد المعینا
خالد المعینا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پچھلے چند دنوں کے دوران غزہ پر اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری اور سنگدلی کی مثال کم ہی مل سکتی ہے۔ اسرائیلی بمباری سے انسانی جانوں کا ضیاع ہر آنے والی گھری بڑھ رہا ہے۔ اس ظلم کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے بچے اور خواتین ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے ماضی میں غزہ پر کی جانے والے فضائی حملوں اور 8 جولائی سے جاری اس بے رحمانہ بمباری میں فرق کیا ہے۔ ان فضائی حملوں کے دوران بھی جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں کی فراہمی شہریوں کے گھروں، خیراتی تنظیموں، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے ٹھیک نشانے لینے کے لیے ممکن تھی اور آج بھی ہے۔

ایسے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہہ دیا ہے کہ اس بمباری کا اختتام کب کیا جائے گا وہ اس بارے میں واضح نہیں ہیں۔ ''ہم نہیں جانتے یہ آپریشن کب ختم ہو گا۔'' یہ اس کے باوجود کہا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں 185 سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ اب تک یعنی 15 جولائی کو تا دم تحریر ایک بھی یہودی مارا نہیں گیا ہے۔ یقینا یہ صورت حال اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے بمباری جاری رکھنے کا کہا ہے۔

فلسطینی ایک مرتبہ پھر ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں اور وہ اقوام متحدہ کے ادارے انروا سے رجوع کے لیے موٹر کاروں، سکوٹروں اور گدھا گاڑیوں پر سوار ہو کر نکل رہے ہیں جبکہ اسرائیلی ایف سولہ طیارے ہیں کہ ان پر بھی بمباری کرتے ہیں۔ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے ناروے کے ایک ڈاکٹر نے اسے 'جہنم' قرار دیا ہے۔ یہ ڈاکٹر پناہ کے لیے آنے والووں کی خاطر قائم کیے گئے کیمپ میں کام کرتا ہے۔ گویا یہ ڈاکٹر بھی فلسطینی عوام کے زخم دیکھ اور تباہی کی مناظر دیکھ کر چلا اٹھا ہے کہ اف میرے خدایا۔

لیکن اس جانب امریکا یا اس کے قریب ترین مغربی اتحادی برطانیہ کی نگاہیں نہیں اٹھی ہیں۔ ان دونوں نے جو کہا ہے صرف تعمیری کہا ہے۔ ایسے نرم بیانات جن میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق تحمل کریں۔ تاہم جو بات دونوں ملکوں نے ببانگ دہل کہی ہے وہ یہ ہے کہ ''اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔'' لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کا یہ حق دفاع کس کے خلاف ہے۔ اہل غزہ تو تمام اطراف سے محاصرے میں ہیں۔ اس وجہ سے غزہ عملا ایک مرکز ارتکاز بن گیا۔ یہاں کے لوگ اس المناک محاصرے سے آزادی چاہتے ہیں۔ وہ آزادانہ زندگی چاہتے ہیں، لیکن ان کے لیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ ان کا کرب یہ ہے کہ عرب ملک ان کے معاملے میں بانجھ ہو کر رہ گئے ہیں۔ عربوں کی اس کمزوری کی ایک وجہ ان کی اپنے ہاں کی لڑائیاں ہیں۔ ان لڑائیوں نے ان کی حالت قابل رحم بنا دی ہے۔

دوسری جانب مغربی ذرائع ابلاغ ہیں کہ معمول کے مطابق اسرائیلی مظالم کو چھپا رہے ہیں۔ بی بی سی اور سی این این تو اسرائیل کے بڑے آلہ ء کار ہیں۔ اس لیے ایک مغربی سفارتکار نے ان دونوں اداروں کو صاف لفظوں میں تل ابیب کے صہیونیوں اور نازیوں کے حقیقی ترجمان قرار دیا ہے۔ ان کا اسرائیلی مفادات کی طرف جھکاو تمام آزاد اور دیانتدار صحافیوں کے عمل سے متصادم ہے۔

ان حالات میں فلسطینیوں کے لیے کیا جا سکتا ہے تاکہ اہل غزہ کی مدد کی جا سکے۔ اپنے مغرب میں موجود اپنے دوستوں سے ذاتی حیثیت میں فلسطینیوں کے لیے اپیلیں کریں اور انہیں فلسطینیوں پر بیتنے والے مظالم کی خوفناک تصاویر سے آگاہ کریں۔ مغربی دنیا میں مقیم عرب کمیونٹیز کے توسط سے اپنی آوازوں کو موثر اور بلند کریں۔ تاکہ مغرب اور دوسری جگہوں پر یہودیوں کی مصنوعات کے بائیکات کی صورت بن سکے۔ یہ سب کچھ ہم کر سکتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اہل غزہ کو بتا سکیں کہ عرب سرکاریں سرکاری طور پر کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو نہ سہی ہم تو موجود ہیں۔ اس لیے ہمیں صرف باتیں ہی نہیں کرنی چاہیں بلکہ عملی طور پر وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو ہم کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہم فلسطینیوں کو لگنے والے زخموں اور صدمات کا مداوا نہیں کر سکتے جو انہیں لگ چکے ہیں یا لگ رہے ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل اپنی قاتلانہ پالیسوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ امن سے گریزاں اور فلسطینیوں کا لہو بہانے سے وہ خود خطرناک صورت حال میں گھر جائے گا۔ کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے اس کی بازگشت اسے سننا ہو گی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں